معرفت کا آغاز قرآن کی سورہ البلد میں ارشاد ہوا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ سورہ نمبر 90، آیات 4 تا 5۔ یعنی ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اوپر کسی کو قدرت حاصل نہیں؟ موجودہ دنیا کا قانون اس طرح بنا ہے کہ یہاں انسان کو مشقت، یعنی hardship کے کورس سے لازمی طور پر گزرنا پڑتا ہے۔ اس قانونِ عام سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کا کیس عجز، یعنی helplessness کا کیس ہے۔ اس دنیا میں صرف خالق ہے جس کو قادرِ مطلق کا درجہ حاصل ہے۔ یہ تقسیم اتنی زیادہ حتمی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے آپ کو اس سے الگ نہیں کر سکتا۔ قرآن کی سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ سورہ نمبر 3، آیت 185۔
یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ اس دنیا میں جو شخص بھی پیدا ہوتا ہے، وہ ایک محدود مدت کے بعد مر جاتا ہے۔ موت کا یہ واقعہ انسان کے عجز کو بتاتا ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی طرف صرف عجز ہے۔
جہاں تک قدرت کا سوال ہے، وہ خالق کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ یہ دونوں تجربات، ہر عورت اور ہر مرد کے لیے، حتمی تجربات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح ہر شخص خود اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں یہ دریافت کر سکتا ہے کہ وہ عجزِ کامل کے مقام پر ہے، اور اس کے مقابلے میں اس کا خالق قدرتِ کاملہ کے مقام پر۔ یہی دریافت معرفت کا آغاز ہے۔
جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کر لے، اس کا سفر معرفت کے راستے پر شروع ہو گیا۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں وہ تمام چیزیں آتی چلی جائیں گی جو خدا کی شریعت میں مطلوب ہیں۔ یہ معرفت گویا ایک فکری انقلاب، یعنی intellectual revolution ہے، وہ آدمی کی پوری زندگی کو اللہ کے رنگ، سورہ نمبر 2، آیت 138 میں رنگ دیتا ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 235۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.