स्पिरिचुअल सिविलाइज़ेशन की तरफ, इंसान से यह मतलूब है कि वह खुदा की तख़्लीक़ में छुपी हुई निशानियों को दरियाफ़्त करे, और आला मारिफ़त की सतह पर खुदा की हम्द करे; इस तरह वह एक रब्बानी सिविलाइज़ेशन को वजूद में लाए। موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے آزادی دی گئی تھی؛ اس آزادی کا غلط استعمال کر کے اس نے موجودہ دنیا میں ربانی سولائزیشن کے بجائے سیکولر سولائزیشن کی تشکیل کی، مگر خدا کا اصل مطلوب ربانی سولائزیشن ہے، نہ کہ سیکولر سولائزیشن۔ بہت جلد یہ ہونے والا ہے کہ موجودہ دنیا ختم کر دی جائے اور ایک نئی، بہتر دنیا بنائی جائے؛ اسی نئی دنیا کو آخرت کہا جاتا ہے۔ آخرت میں یہ ممکن ہوگا کہ خدا کے مطلوب کے مطابق ایک اعلیٰ ربانی سولائزیشن کی تشکیل کی جائے؛ یہاں یہ ممکن ہوگا کہ خدا کی اعلیٰ معرفت ظاہر ہو، خدا کی مرضی کے مطابق ایک آئیڈیل معاشرہ، یعنی آئیڈیل سوسائٹی بنے۔ یہ ایک پرفیکٹ دنیا ہوگی جہاں انسان کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ اس کو ہر اعتبار سے فُلفِلمنٹ کی زندگی حاصل ہو جائے۔
تزکیے کا مقصد یہ ہے کہ اس آنے والے ربانی معاشرہ یا اسپرچول سولائزیشن کے لیے صالح افراد حاصل کیے جائیں۔ صالح انسان کا مطلب ہے درست انسان، یعنی رائٹ پرسن۔ تزکیے کا مقصد یہ ہے کہ جنت کے معاشرے کے لیے ایسے افراد تیار کیے جائیں جو وہاں کے معیاری ماحول میں رہنے کے اہل ہوں، جن کی سوچ، جن کی گفتگو، جن کی عادتیں، جن کا ذوق، غرض ہر اعتبار سے وہ اس کردار کے مالک ہوں جو آخرت میں بننے والی جنت کے لیے مطلوب ہے۔ موجودہ دنیا اسی قسم کے افراد کی تیاری کے لیے بنائی گئی ہے، اور اسی تیاری کا نام تزکیہ ہے۔
یہ تزکیہ ہر آدمی خود اپنے ذاتی محاسبے کے ذریعے انجام دیتا ہے۔ جنت کے معاشرے میں جو احوال پیش آنے والے ہیں، وہ سب موجودہ دنیا میں بار بار پیش آتے ہیں۔ فرشتے اس اعتبار سے ہر انسان کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں، یعنی تعلقات اور معاملات کے دوران آدمی نے کس طرح کا رسپانس دیا؛ جنتی رسپانس یا غیر جنتی رسپانس، ربانی رسپانس یا غیر ربانی رسپانس، درست رسپانس یا نادرست رسپانس، ذمہ دارانہ رسپانس یا غیر ذمہ دارانہ رسپانس۔ فرشتوں کے اس ریکارڈ پر ان لوگوں کو چنا جائے گا جنہوں نے دنیا کی زندگی میں مطلوب رسپانس دیا تھا۔
یہی منتخب لوگ جنتی دنیا کے وارث ہوں گے، اور یہی لوگ وہاں ربانی سولائزیشن بنائیں گے، جس کی تشکیل کا پراسیس ابد تک جاری رہے گا۔ جس طرح خدا کے کلمات، سورہ نمبر 31 آیت 27 کی کوئی حد نہیں، اسی طرح ربانی تہذیب کے پراسیس کی بھی کوئی حد نہیں۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 217۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.