Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkiye ka meyaar.

Urdu · 6 min

تزکیے کا معیار قرآن کی سورہ الشمس میں ارشاد ہوا ہے: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا». سورہ نمبر 91، آیات 9 تا 10۔ یعنی کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اپنے آپ کو پاک کیا، اور ناکام ہوا وہ شخص جس نے اپنے آپ کو آلودہ کیا۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ اصل میں اس بات کا نام ہے کہ آدمی اپنی خداداد شخصیت کو آلودگی سے بچائے۔

اپنی پیدائشی فطرت کے اعتبار سے ہر انسان وہی پاک شخصیت لے کر اس دنیا میں آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ لیکن دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے وہ اپنی خداداد فطرت کو مسلسل آلودہ کرتا رہتا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسی کا نام کنڈیشننگ ہے۔ اس اعتبار سے تزکیے کا معیار یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ کر کے اپنی کنڈیشننگ کو جانے، اور اپنی اصلاح آپ کے اصول پر اپنی ڈی کنڈیشننگ کر کے وہ اپنے آپ کو اس حالت فطری کی طرف واپس لے جائے جو اس کو خالق کی طرف سے پیدائشی طور پر دی گئی تھی۔

مزکّہ شخصیت یعنی پیوریفائیڈ پرسنالٹی، دوسرے لفظوں میں ڈی کنڈیشنڈ شخصیت، یعنی ڈی کنڈیشنڈ پرسنالٹی کا دوسرا نام ہے۔ جو آدمی اس طرح اپنا تزکیہ کرے، وہی وہ شخص ہے جو آخرت کی دنیا میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے گا۔ تزکیے کا معیار یعنی کرائٹیرین کیا ہے؟ تزکیے کا معیار یہ ہے کہ آدمی کو اسلامی طرز فکر اور اسلامی طرز عمل سے اتنی زیادہ مناسبت پیدا ہو جائے کہ وہ اس کو اپنے دل کی آواز محسوس کرنے لگے۔

وہ کسی گرانی کے بغیر اس کو فوراً قبول کر لے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ تزکیے کا اصل مقصد تعلق باللہ بتایا گیا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ تزکیے کی پہچان یہ ہے کہ بندے کا سول کنسن صرف ایک ہستی بن جائے، اور وہ خدا کی ہستی ہے۔

اسی کا اصطلاحی نام توحید ہے۔ یعنی شرک سے مکمل طور پر پاک ہونا، اور اللہ کو مکمل طور پر اپنا مرکز توجہ بنا لینا۔ خدا کو اپنا سول کنسن بنانا کوئی بات نہیں۔ خدا کو اپنا سول کنسن بنانا کوئی سادہ بات نہیں۔

یہ آدمی کی ذات میں کامل انقلاب کے ہم معنی ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ پورے معنوں میں خدا کو دینے والا، یعنی گیور، سمجھنے لگتا ہے۔ اور اپنے آپ کو پورے معنوں میں پانے والا، یعنی ٹیکر۔ اس کی سوچ خدا رخی سوچ بن جاتی ہے۔

اس کے جذبات کا مرکز خدا بن جاتا ہے۔ اس کی بات اور اس کے کردار میں خدا کا رنگ دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس کے اندر کامل معنوں میں تواضع، یعنی ماڈیسٹی، پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک کٹو سائز انسان بن جاتا ہے۔

دوسروں کے لیے اس کے دل میں نفرت کے بجائے خیر خواہی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے لوگوں کو اکڑ کے بجائے اعتراف کا تجربہ ہونے لگتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی ڈھونڈنے لگتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ وہ بولنے سے زیادہ خاموشی کو پسند کرنے لگتا ہے۔

آگے کی سیٹ حاصل کرنے کے بجائے پیچھے کی سیٹ اس کے لیے محبوب بن جاتی ہے۔ وہ بولنے سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ میری بات خدا کے یہاں قابل قبول ہوگی یا وہ خدا کے یہاں رد کر دی جائے گی۔ وہ تنہائی میں بھی اسی طرح محتاط ہو جاتا ہے جس طرح کوئی شخص مجمعے کے درمیان محتاط ہوتا ہے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 216۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.