Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkiye ka maqsad.

Urdu · 8 min

تزکیہ کا مقصد قرآن کی سورہ الزمر میں اہل جنت کے معاملے کو اس طرح بتایا گیا ہے: "اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرے، وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور جنت کے محافظ ان سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر، خوشحال رہو، پس تم جنت میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ کے لیے، اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اور اس نے ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا، ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں، پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا، اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا، اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، عالم کا خداوند"۔ سورہ نمبر 39، آیات 73 تا 75۔ الحمدللہ رب العالمین کی آیت سورہ الفاتحہ میں موجودہ دنیا کی نسبت سے آئی ہے۔ سورہ الزمر کے مذکورہ اقتباس میں یہ آیت دوبارہ آخرت کی دنیا کے لیے آئی ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے وہ حمد خداوندی ہے۔ یہی چیز موجودہ دنیا میں بھی مطلوب ہے، اور آخرت میں بھی یہی چیز مطلوب ہوگی۔ تزکیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایسی پاک روحیں، یعنی پیوریفائیڈ سولز، وجود میں آئیں جو آخرت میں مبنی برحمد نظام حیات کا حصہ بن سکیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کا ایک کام یہ تھا کہ وہ ایک تہذیب، یعنی سولائزیشن، کو وجود میں لائے۔

انسان نے بڑے پیمانے پر یہ کام انجام دیا۔ ہجری دور، یعنی سٹون ایج سے آغاز کر کے، اس نے اس کو الیکٹرانک دور، یعنی الیکٹرانک ایج تک پہنچا دیا۔ یہ کام فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے کے ذریعے انجام پایا۔ لیکن عملاً یہ ہوا کہ انسان نے ایک صحیح کام میں غلط کام کو ملا دیا۔

فطرت کی طاقتوں پر قابو پانے کے بعد وہ سرکش بن گیا۔ اس نے استبدادی نظام، یعنی ڈسپوٹک سسٹم، قائم کیا۔ اس نے آزادی کے نام پر انارکی پھیلائی۔ اس نے فیشن کے نام پر عریانیت، یعنی نیوڈیٹی، کو رواج دیا، وغیرہ۔

اس لیے قیامت میں یہ ہوگا کہ صالح لوگوں کو منتخب کر کے ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ ربانی تہذیب کو زیادہ بہتر طور پر قائم کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "إِنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ" سورہ نمبر 22، آیت 105۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی معرفت کا ایک سفر ہے۔ یہ سفر دنیا سے لے کر آخرت تک چلا جا رہا ہے۔

دنیا میں معرفت کا سفر محدود طور پر انجام پاتا ہے۔ آخرت میں معرفت کا سفر لامحدود طور پر جاری رہے گا۔ اس سفر کو کامیابی کے ساتھ وہی شخص طے کر سکتا ہے جو اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا کے تمام سمندروں کو اور ان کے برابر مزید سمندروں کو سیاہی، یعنی انک، بنا دیا جائے، اور دنیا کے تمام درختوں کو قلم بنا دیا جائے، اور پھر اللہ کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے، تو تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے گی۔

مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ سورہ نمبر 31، آیت 27۔ یہ بات جو قرآن میں کہی گئی ہے، وہ خبر نہیں ہے بلکہ وہ انشاء ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے ان کلمات کو دریافت کریں، اور اس طرح وہ اپنی معرفت کو مسلسل بڑھاتے رہیں۔

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" سورہ نمبر 1، آیت 1۔ یہ آیت بھی خبر نہیں ہے بلکہ وہ انشاء ہے۔ یہ آیت دریافت معرفت کے دنیاوی آغاز کو بتاتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں آخرت کے حوالے سے یہی آیت اس طرح آئی ہے: "وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" سورہ نمبر 39، آیت 75۔

یہ دوسری آیت دریافت معرفت کے اگلے مرحلے کو بتاتی ہے، جو آخرت کے زیادہ بہتر ماحول میں ابد تک جاری رہے گا۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ "إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ" صحیح البخاری، رقم الحدیث 3062۔ اس حدیث میں جس دینی تائید کا ذکر ہے، اس کا سب سے بڑا مصداق غالباً انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے سائنس دانوں کا عمل ہے۔ انہوں نے معرفت کے حصول کے لیے ایک سائنٹیفک فریم ورک دیا۔

آخرت میں اس سفر معرفت کو جاری رکھنے کے لیے اہل ایمان کو زیادہ اعلیٰ درجے کے معیدین حاصل ہوں گے۔ یہ ملائکہ ہوں گے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: "نَحْنُ أَوْلِيَاءُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ" سورہ نمبر 41، آیت 31۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 214۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.