ادخالِ کلمہ: اخوانِ رسول کو جو کام کرنا ہے، اس کو واحد نام دینا ہو تو وہ "ادخالِ کلمہ" ہوگا۔ حدیث میں اس سلسلے میں "أدخله الله كلمة الإسلام" کا لفظ آیا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ادخالِ کلمہ کے اس عمل میں مُدخِل خود اللہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اسباب خود اللہ کی طرف سے مہیا کیے جائیں گے، جو عالمی ادخالِ کلمہ کے لیے ضروری ہیں۔
ادخالِ کلمہ کا پورا پراسیس خدا کی طرف سے ہوگا۔ اخوانِ رسول کو صرف یہ سعادت ملے گی کہ وہ اس عمل کا ایک شعوری حصہ قرار پائیں گے۔ دعوتِ الی اللہ کا کام ہمیشہ خدا کی نصرتِ خاص کے تحت انجام پاتا ہے۔ تاریخ کے آخری دور میں دعوتِ الی اللہ کا جو کام ہوگا، وہ بھی خدا کی خصوصی نصرت کے تحت انجام پائے گا۔
یہ نصرتِ خاص ہمیشہ معجزے کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس معاملے میں معجزے سے کم درجے کی کوئی چیز نصرت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ البتہ یہ فرق ہے کہ قدیم زمانے میں دعوت کے حق میں یہ معجزاتی نصرت خرقِ عادت کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی۔ اب موجودہ زمانے میں یہ معجزاتی نصرت اسباب کی صورت میں ظاہر ہوگی، یعنی تاریخی عمل کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے انفجارِ مواقع، یعنی Opportunity Explosion کے ذریعے۔
اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قدیم زمانے کے داعیوں کو جو نصرت بذریعہ معجزات دی گئی تھی، موجودہ زمانے کے داعیوں کو وہ نصرت پورے دور کی تبدیلی کی صورت میں فراہم کر دی گئی ہے۔ قدیم داعیوں کو یہ نصرت اگر وقتی معجزے کے ظہور کے ذریعے ملی تھی تو آج کے داعیوں کے لیے یہ نصرت پورے دور کو ان کے موافق بنانے کی صورت میں عطا کر دی گئی ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 162۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.