دور کی تبدیلی: قرآن کی سورہ النور میں اہلِ ایمان کے لیے "استخلاف فی الارض" سورہ نمبر 24 آیت 55 کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل کے لیے یہ خبر دی گئی ہے کہ خدا اہلِ ایمان کی حالتِ خوف کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا، یعنی وَلَا يُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۔ قرآن کی اس آیت میں جس تبدیلی کا ذکر ہے، اس کا تعلق نہ صرف سیاسی تبدیلی سے ہے اور نہ صرف زمانی تبدیلی سے۔ اس آیت میں دراصل دور کی تبدیلی کی خبر دی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دورِ اول میں اسلام کے ذریعے جو انقلاب آیا، اس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک "پراسیس" جاری ہوا۔ یہ پراسیس آخر کار اس انجام تک پہنچے گا کہ دنیا سے خوف کا دور ختم ہو جائے اور امن کا دور قائم ہو جائے۔ اس کے بعد اہلِ ایمان توحید کے مشن کو مذہبی آزادی کے ماحول میں انجام دینے کے قابل ہو جائیں گے، جبکہ اس سے پہلے توحید کے مشن کو مذہبی جبر کے ماحول میں انجام دینا پڑتا تھا۔ 20ویں صدی عیسوی میں یہ تبدیلی مکمل طور پر آ چکی ہے۔
20ویں صدی مذکورہ تاریخی پراسیس کے نقطۂ انتہا، یعنی کلمینیشن کی صدی ہے۔ اب لڑائی یا متشددانہ طریقہ کار کامل طور پر ایک غیر متعلق، یعنی irrelevant، طریقہ بن چکا ہے۔ اب اگر اہلِ ایمان کو دوبارہ خوف کی حالت پیش آئے گی تو وہ خود ان کی اپنی غلط پالیسی کی بنا پر پیش آئے گی، نہ کہ زمانی حالت کی بنا پر۔ دور کی یہ تبدیلی پرامن دعوتی مشن کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہے۔
جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں اور بدستور متشددانہ کارروائی کرتے رہیں، وہ اپنے بارے میں اندھے پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ اندھا پن اتنا زیادہ سنگین ہے کہ اس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں "کفر و انکار" کا نام دیا گیا ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 163۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.