Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Amn aur kushada rizq.

Urdu · 4 min

امن اور کشادہ رزق، امن اور رزق کی کشادگی کے اعتبار سے بھی، یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ پورے معنوں میں وہ زمانہ ہے جبکہ امن اور رزق کی کشادگی دونوں کے مواقع پوری طرح حاصل ہو چکے ہیں۔ اصولی طور پر آج کے انسان کے لیے صرف امن کا چوائس باقی رہا ہے، تشدد اور جنگ کا چوائس اب اصولی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ عمومی تباہی کے ہتھیار، یعنی ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن، کے وجود میں آنے کے بعد اب صرف پرامن طریقہ کار ہی کے ذریعے کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اب متشددانہ طریقہ کار کے ذریعے کسی مثبت مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں رہا۔ مزید یہ کہ آج مذہبی آزادی، یعنی ریلیجس فریڈم، کا حق ایک مطلق حق کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے جارحانہ انداز اختیار نہ کرے تو وہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر دعوتی کام انجام دے سکتا ہے۔ گویا کہ قدیم عرب، یعنی قریش، کو جو امن محدود طور پر کعبے کی نسبت سے ملا تھا، وہ امن اب جدید دنیا میں ایک زمانی انقلاب کے نتیجے میں عالمی سطح پر حاصل ہو چکا ہے۔

یہی معاملہ رزق کی کشادگی کا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل اسلام کے لیے رزق کی کشادگی کا واقعہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے جیسا واقعہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کشادگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے تیل کا خزانہ دریافت ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تیل کے ذخائر کا 75 فیصد حصہ مسلم ملکوں میں واقع ہے۔

دوسری طرف جدید صنعتی انقلاب نے کسب رزق کے مواقع سینکڑوں گنا زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ اگر اہل اسلام اپنی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے تو آج وہ دعوت الی اللہ کا کام رزق کی فراوانی کے ماحول میں انجام دے سکتے ہیں، جبکہ پچھلے لوگوں کو رزق کی تنگی کے ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا پڑتا تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ جدید دور، یعنی ماڈرن ایج، ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ ایک لفظ میں اس کو روایتی دور کا خاتمہ اور غیر روایتی دور کا ظہور کہہ سکتے ہیں۔

آج کا دور فکر و عمل کے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے کامل طور پر ایک بدلا ہوا دور ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ قدیم زمانے کا آدمی اگر اچانک زندہ ہو کر آج کے زمانے میں آئے تو وہ سمجھے گا کہ شاید میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں، کیونکہ یہاں کی ہر چیز اس کو ناقابلِ قیاس حد تک بدلی ہوئی دکھائی دے گی۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 160۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.