Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Mutalashi-e-haq nasl.

Urdu · 4 min

متلاشیِ حق نسل، مکے میں قبائلِ قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے "حق کے متلاشی" یعنی truth seeker لوگ تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو "حنفا" کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔ انہی حنفا میں سے ایک زید ابنِ عمر ابنِ نفیل تھے۔ اسماء بنتِ ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید ابنِ عمر ابنِ نفیل کو دیکھا ہے، وہ کعبے کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اللهم إني لو أعلم أحب الوجوه إليك عبدتك به ولكني لا أعلم.

السیرت النبویہ، ابنِ کثیر، جلد 1، صفحہ 154۔ یعنی: اے اللہ! اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے، تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اس کو نہیں جانتا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر، بنو اسماعیل کے تقریباً تمام افراد کا یہی حال تھا۔

اپنی خصوصی صحرائی تربیت کے نتیجے میں یہ لوگ متلاشیِ حق یعنی truth seeker تھے، نہ کہ منکرِ حق۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے ان کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ابتدا میں ان کی مخالفت بے خبری کی بنا پر تھی، نہ کہ حقیقتاً سرکشی کی بنا پر۔ موجودہ زمانے کی جدید نسل کا کیس بھی عام طور پر یہی ہے۔

موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب اور دوسرے فکری انقلابات کے نتیجے میں لوگوں کا جو ذہن بنا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے منکرِ حق کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشیِ حق یعنی truth seeker کا کیس ہے۔ اس معاملے کو ایک حالیہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: ایک انگریز جوڑا مغربی تہذیب سے غیر مطمئن تھا، آخر کار دونوں لندن چھوڑ کر دہلی آ گئے۔ دہلی میں آج کل وہ "بیمار حیوانات" کا ایک اسپتال چلا رہے ہیں۔ وہ حیوانات کی خدمت میں اپنے لیے اطمینان تلاش کر رہے ہیں۔

ہماری دعوتی ٹیم کے ایک صاحب ان سے ملے اور ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ انہوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور کہا کہ میں اس کو ضرور پڑھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش یہ— انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ میں سچائی کے دوسرے تصور کو جانوں۔ I always wanted to know another version of truth.

I always wanted to know another version of the truth. یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ نئے افکار اور نئے تجربات نے ان کو شعوری یا غیر شعوری طور پر سچائی کا متلاشی بنا دیا ہے۔ یہ صورتحال اکیسویں صدی کے اخوانِ رسول کو عین وہی موقع فراہم کر رہی ہے جو ساتویں صدی کے اصحابِ رسول کے حصے میں آیا تھا۔

جو لوگ اس موقع کو دریافت کر کے اس کو استعمال کریں، وہی دراصل اخوانِ رسول کا رول ادا کریں گے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 159۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.