Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ikhwan-e-rasul ke liye khushkhabri.

Urdu · 6 min

اخوانِ رسول کے لیے خوشخبری: قرآن کی سورہ الفیل، سورہ نمبر 105، اور سورہ قریش، سورہ نمبر 106 دو توام، یعنی ٹوئن سورتیں ہیں۔ یہ دونوں سورتیں تقریباً ایک ہی وقت میں، مکی دور کی ابتدا میں نازل ہوئیں۔ یہ دونوں سورتیں اصحابِ رسول کے لیے خوشخبری کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان سورتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اصحابِ رسول کو اپنے زمانے میں جو رول ادا کرنا ہے، اس میں خدا پوری طرح ان کے ساتھ ہے۔

اصحابِ رسول خدا کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔ خدا نے ان کے لیے پیشگی طور پر وہ اسباب مہیا کر دیے ہیں جن کی تائید سے وہ اپنے مطلوب رول کو بخوبی طور پر ادا کر سکیں۔ سورہ الفیل میں کعبے کے تحفظ کا ذکر ہے۔ کعبہ دراصل وہ تاریخی عمارت تھی جس کے لیے یہ مقدر تھا کہ وہ اسلام کی تحریکِ توحید کا عالمی مرکز بنے۔

اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے کعبے کو معجزاتی طور پر ابرہا کے حملے سے بچایا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ اصحابِ رسول کعبہ اور بلدِ امین کو مرکز بنا کر مبنی بر توحید انقلاب برپا کریں۔ سورہ قریش میں قریش کے لیے خدا کی خصوصی نصرت کا ذکر ہے۔ یہ قریش کون لوگ تھے؟

یہ اسماعیلی نسل کے وہ منتخب لوگ تھے جو دراصل مستقبل کے اصحابِ رسول تھے۔ خدا کو مطلوب تھا کہ وہ محفوظ رہیں اور آخر کار پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے کر وہ تاریخی رول ادا کریں جو ان کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ قرآن کے ساتھ خدا کا جو خاص معاملہ ہوا، اس میں سے ایک معاملہ وہ تھا جس کو سورہ قریش کے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ سورہ نمبر 106 آیت 4۔ یعنی ان کے لیے خصوصی طور پر رزق کی فراہمی اور خصوصی طور پر امن کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔

قرآن کی ان دونوں سورتوں میں براہِ راست طور پر اس تاریخی معاملے کا ذکر ہے جو اصحابِ رسول کے ساتھ پیش آیا۔ اسی کے ساتھ بالواسطہ طور پر ان دونوں سورتوں میں اس واقعے کی طرف بھی اشارہ ہے جو بعد کے اخوانِ رسول کے ساتھ پیش آنے والا تھا۔ یعنی اخوانِ رسول کے لیے ایک طرف مرکزِ عمل کی فراہمی اور دوسری طرف مواقعِ کار کے دروازے کا کھل جانا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں نصرتِ الہی کا یہ وعدہ امکانی طور پر ایک واقعہ بن چکا ہے۔

اصحابِ رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے کہا تھا کہ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ تِلْكَ الْأُمَّةِ فَلْيُؤَدِّ شَرْطَ اللَّهِ فِيهَا کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال، رقم الحدیث 4293۔ یہ بات جو حضرت عمر فاروق نے قدیم زمانے میں اصحابِ رسول کے بارے میں کہی تھی، اسی کو موجودہ زمانے میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ اخوانِ رسول کی جماعت میں شامل ہونے کی خوش قسمتی حاصل کرنا چاہتے ہوں، ان کو چاہیے کہ وہ عصرِ حاضر کو سمجھیں اور جدید مواقع کو استعمال کر کے وہ رول ادا کریں جو اخوانِ رسول کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ اصحابِ رسول کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں تین خاص امکانات فراہم کیے گئے تھے۔ اکیسویں صدی عیسوی میں اخوانِ رسول کے لیے بھی جدید حالات کے اعتبار سے تین خاص مواقع پوری طرح فراہم ہو چکے ہیں۔

ضرورت صرف یہ ہے کہ کچھ باحوصلہ اہلِ ایمان ان مواقع کو دریافت کریں اور اپنے حکیمانہ عمل کے ذریعے اس امکان کو واقعہ بنائیں۔ ان تینوں امکانات کو حسبِ ذیل الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: نمبر 1: متلاشیِ حق نسل، یعنی سیکر جنریشن۔ نمبر 2: الیکٹرانک مرکز، یعنی الیکٹرانک سینٹر۔ نمبر 3: امن اور کشادہ رزق، یعنی پیس اینڈ پلینٹی۔

نمبر 4: کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 157۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.