Maulana Wahiduddin Khan
14 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ikhwan-e-rasul ki sifaat.

Urdu · 14 min

اخوانِ رسول کی صفات: اخوانِ رسول کی دو خاص صفتیں ہوں گی، ایک صفت کا تعلق معرفتِ دین سے ہے اور دوسری صفت کا تعلق دعوتِ دین سے۔ یہ دونوں صفات یکساں طور پر ضروری ہیں؛ ان میں سے کسی ایک صفت کا فقدان بھی کسی گروہ کو اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کے لیے نااہل بنا دیتا ہے۔ پہلی صفت کو سمجھنے کے لیے اس حدیثِ رسول کا مطالعہ کیجیے: "بدأ الإسلام غريبًا وسيعود كما بدأ، فطوبى للغرباء" صحیح مسلم، رحم الحدیث 232۔ یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اسی طرح دوبارہ اسلام اجنبی ہو جائے۔

پس مبارکباد ہو اجنبیوں کے لیے! اس حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ عام قانونِ فطرت کے مطابق مسلمانوں کی اگلی نسلوں کے اندر زوال یعنی ڈی جنریشن پیدا ہوگا۔ وہ بدستور اسلام کا نام لیں گے، لیکن وہ حقیقی اسلام سے ناآشنا ہو چکے ہوں گے۔ وہ لوگ قابلِ مبارکباد ہیں جو بعد کے زمانے میں اصل اسلام کو دریافت کریں اور از سرِ نو اس پر قائم ہو جائیں۔

بعد کے مسلمانوں میں اس قسم کا زوال کیوں پیش آئے گا؟ اس کا سبب رسول کے زمانے سے دوری ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کو سمجھنے کا قریبی ماخذ رسول نہیں ہوتا، بلکہ بعد کے زمانے کے اکابر ان کے لیے ان کے دین کا قریب ماخذ بن جاتے ہیں، جن کو قرآن میں احبار الرحبان سورہ نمبر 10 آیت 30 کہا گیا ہے۔ صحابہ کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ رسول تھا، تابعین کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ صحابہ بن گئے۔

اس کے بعد تبعِ تابعین کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ تابعین بن گئے۔ اسی طرح ہر نسل کے لیے اس کے دین کا قریبی ماخذ بدلتا رہا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ تدریجی طور پر ہوتی ہے۔ اس بنا پر وہ غیر محسوس طور پر جاری رہتی ہے۔

اس کا اندازہ لوگوں کو صرف اس وقت ہوتا ہے جبکہ بڑھتے بڑھتے وہ بڑی تبدیلی تک پہنچ جائے۔ مثلاً رسول سے جو دین صحابہ کو ملا، اس میں سارا زور اسپرٹ پر تھا۔ اس کے بعد ہر نسل میں اس کے اندر تبدیلی آتی رہی، یہاں تک کہ عباسی دور میں جب فقہاء کا زمانہ آیا تو اب سارا زور مسائل بالفظ دیگر فارم پر دیا جانے لگا۔ رسول کے زمانے میں دین مبنی بر روح یعنی اسپرٹ بیسڈ تھا۔

فقہاء کے زمانے میں دین مبنی بر مسائل یعنی فارم بیسڈ بن گیا۔ اسی طرح رسول کے زمانے میں اسلام کا خارجی نشانہ صرف دعوت تھا۔ اس زمانے میں اسلام ایک دعوتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا، مگر بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے دعوتی ذہن کم ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب اٹھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا تو مسلمانوں کے اندر دعوتی نشانہ سرے سے ختم ہو گیا۔ اب صرف ایک چیز ان کا نشانہ بن گئی، اور وہ تھا سیاسی اقتدار۔

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کا کوئی کلچر نہیں تھا۔ اس زمانے میں رسول اور اصحاب رسول اسلام کو ایک مشن کے طور پر اختیار کیے ہوئے تھے۔ پھر جب اسلام مختلف ملکوں میں پھیلا اور دوسری قوم کے لوگوں سے مسلمان کے تعلقات قائم ہوئے، اس کے بعد مسلسل انٹریکشن کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان ایک کلچر بننے لگا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آ گئی جس کو مسلم کلچر کہا جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان یہ تبدیلیاں پوری طرح واقع ہو چکی ہیں، یہاں تک کہ رسول والا اصل اسلام مسلمانوں کے لیے اب اجنبی یعنی غریب بن چکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام پر ہیں، حالانکہ بااعتبار حقیقت وہ ایک بدلے ہوئے اسلام پر ہیں، نہ کہ اصل اسلام پر۔ اب اگرچہ اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، لیکن اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کی توفیق صرف ان لوگوں کو ملے گی جو رسول اور اصحاب رسول والے اسلام کو دوبارہ دریافت یعنی ڈسکور کریں۔ موجودہ مسلمانوں کا زمانہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے درمیان جو دوری یعنی ڈسٹنس واقع ہو چکی ہے، اس کو عبور کر کے وہ دوبارہ عہد صحابہ میں پہنچے۔

اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے والے اگرچہ اکیسویں صدی میں ہوں گے، لیکن اپنی فکر اور اپنی سیرت اور اپنے مشن کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو اصحاب رسول کے ہم زمانہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اصحاب رسول اور اخوانِ رسول کا رول اگرچہ زمانے کے اعتبار سے مختلف ہے، لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے دونوں کا رول ایک ہے۔ سیرت رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی ایک کتاب "پیغمبر انقلاب" صفحات 208 پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس کتاب کے آخری باب میں دو بڑے دعوتی گروہوں کا ذکر تھا جو پیغمبرانہ مشن میں عظیم تاریخی رول ادا کرے گا۔

کتاب کی یہ سطریں یہاں نقل کی جاتی ہیں: سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقتور اہل کفر بظاہر کمزور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالی سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے۔ اس نازک لمحے میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: "اللهم إن تهلك هذه العصابة لا تعبد بعدها في الأرض" صحیح مسلم، رحم الحدیث 4687۔ یعنی خدایا اگر یہ گروہ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا، حقیقت یہ ہے کہ وہ 313 روحیں جو بے سر و سامانی کے باوجود بدر کے معرکے میں کھڑی ہوئی تھیں، یہ محض عام قسم کے 313 لوگ نہ تھے۔

یہ عصابہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اس طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ یعنی گروہ درکار ہے، جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو، جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو، جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لیے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے۔ کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاغذ میں اپنا کاغذ ملائیں گے اور بالاخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔

صفحہ 204۔ اس اقتباس میں جن دو عصابہ کا ذکر تھا، ان میں سے پہلا عصابہ وہ ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ دوسرا عصابہ وہ ہے جس کا ذکر پیشن گوئی کے طور پر حدیث رسول میں آیا ہے۔ اس دوسرے عصابہ کو حدیث میں اخوانِ رسول یعنی "اخوان الذین لم یأتوا بعد" کہا گیا ہے۔

اصحاب رسول وہ گروہ ہے جس نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنا معلوم تاریخی رول ادا کیا۔ اخوانِ رسول غالباً وہ گروہ ہوگا جو اکیسویں صدی عیسوی میں اپنا مطلوب رول ادا کرے گا۔ اس قسم کا رول ادا کرنا کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ ایسا گروہ ہمیشہ ایک لمبے تاریخی عمل کا نقطہ انتہا ہوتا ہے۔

اصحاب رسول اپنے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا نقطہ انتہا تھے۔ اسی طرح اخوانِ رسول اپنے سے پہلے کے ایک ہزار سال سے زیادہ لمبے تاریخی عمل کا نقطہ انتہا ہوں گے۔ پہلے عصابہ یعنی اصحاب رسول نے اپنا مطلوب رول پیغمبر کی رہنمائی میں ادا کیا۔ بار بار ایسا ہوا کہ صحابہ پر یہ امر واضح نہ تھا کہ پیش آمدہ صورتحال میں انہیں کیا کرنا چاہیے۔

پیغمبر پر خدا نے وحی بھیجی اور پیغمبر نے اس کے مطابق صحابہ کی رہنمائی کی۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ اس وقت صحابہ میں سے کسی بھی شخص کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس نازک موقع پر انہیں کیا کرنا چاہیے۔ آخر کار پیغمبر کی رہنمائی میں فیصلہ کیا گیا۔

اسی طرح صحابہ کا پورا رول پیغمبر کی رہنمائی میں انجام پایا۔ دوسرے عصابہ یعنی اخوانِ رسول کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اخوانِ رسول کا رول تمام تر اجتہادی رول ہوگا۔ ان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ حالات کے گہرے مطالعے کے ذریعے اپنا رول دریافت کریں اور اس کے مطابق عمل کر کے اخوانِ رسول کے درجے کے مستحق ٹھہریں۔

اس معاملے میں اخوانِ رسول کے لیے صرف دو ہی چیزیں مددگار ہو سکتی ہیں۔ وہ دو چیزیں ہیں: دعا اور اجتہاد۔ راقم الحروف نے اس موضوع پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ ان تمام متعلق لٹریچر کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔

راقم الحروف نے اس موضوع پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ اس تمام متعلق لٹریچر کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی کے ساتھ لمبی مدت تک اپنے دن اور اپنی راتوں کو دعا میں گزارا ہے۔ ان مسلسل کوششوں کے بعد ذاتی طور پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکیسویں صدی میں وہ تمام حالات پوری طرح ظاہر ہو چکے ہیں جو اخوانِ رسول کو اپنا تاریخی رول ادا کرنے کے لیے درکار ہیں۔

میرے اندازے کے مطابق اب انتظار کا وقت ختم ہو چکا ہے اور عمل کا وقت آخری طور پر آ چکا ہے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 153۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.