اخوانِ رسول، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کے مطابق، دورِ آخر میں اہلِ ایمان کے درمیان ایک دعوتی گروہ ظاہر ہوگا۔ حدیث میں اس گروہ کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَ لَسْنَا إِخْوَانُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ بَلَنْتُمَ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ.
صحیح مسلم، رقم الحدیث 607۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے اخوان یعنی بھائیوں کو دیکھوں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان یعنی بھائی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔
ہمارے اخوان وہ ہوں گے جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دینِ توحید کی جو تاریخ شروع ہوئی، اس میں دو گروہ ایسے ہیں جن کے لیے مقدر تھا کہ وہ دینِ توحید کے دعوتی اظہار میں نمایاں رول ادا کریں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول نے ساتویں صدی کے نصفِ اول میں اپنا خصوصی رول ادا کیا۔
موجودہ زمانے میں دعوت و اظہارِ دین کا یہی رول وہ دوسرا گروہ انجام دے گا جس کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ کا رول پراسرار کرامت کے طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت ہوگا۔ دونوں زمانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کیے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے دونوں گروہ اپنا مطلوب رول انجام دیں گے۔ دونوں گروہ دراصل دو الگ الگ تاریخی عمل کے نقطۂ انتہا یعنی کلمینیشن ہوں گے۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 152۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.