اخوانِ رسول کا دور، اخوانِ رسول سے مراد امتِ محمدی کا وہ دوسرا گروہ ہے جو تاریخِ انسانی کے آخری دور میں، قیامت سے پہلے غالباً 21ویں صدی میں ظاہر ہوگا۔ وہ حالات کے اعتبار سے 21ویں صدی عیسوی میں وہی دعوتی جہاد کرے گا جو 7ویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول نے اپنے حالات کے اعتبار سے انجام دیا تھا۔ اصحابِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے وارث بنے تھے۔ اخوانِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کے وارث ہوں گے۔
اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں میں سے کسی کا کام پراسرار کام نہیں ہوگا، بلکہ دونوں ہی کا یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے معلوم مواقع کو دریافت کریں گے اور ان کو استعمال کر کے انسانیت کے معاملے میں خدا کے منصوبے کو پورا کریں گے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 152۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.