مسلم تہذیب کا دور مسلم تہذیب کے دور سے مراد وہ دور ہے جو رسول اور اصحابِ رسول کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد شروع ہوا۔ یہ دور مکہ اور مدینے میں شروع ہوا، پھر دمشق اور بغداد اور قرطبہ ہوتے ہوئے وہ مغربی یورپ تک پہنچ گیا۔ اس دور کو مسلم تہذیب کا دور کہا جا سکتا ہے۔ مسلم تہذیب کے دور میں فطرت یعنی نیچر کو پرستش کے بجائے تدبر اور تسخیر کا موضوع بنایا گیا۔
جن ستاروں کو اس سے پہلے انسان دیوتا سمجھ کر پوجتا تھا، ان کے مطالعے اور مشاہدے کے لیے مسلم شہروں میں رستگاہیں قائم ہوئیں وغیرہ۔ مسلم تہذیب کے رول کا اعتراف مؤرخین نے واضح طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر بریفالڈ یعنی رابرٹ بریفالڈ نے لکھا ہے کہ یہ بہت زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہ آتی۔ It is highly probab it is highly probable that, but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all.
The Making of Humanity, page 202. کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 151۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.