مغربی تہذیب کا دور مغربی تہذیب، یعنی ویسٹرن سولائزیشن، کو عام طور پر قدیم یونانی تہذیب کی نشأتِ ثانیہ یعنی رینیسانس کہا جاتا ہے، مگر یہ انتساب درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید مغربی تہذیب دراصل قدیم مسلم تہذیب کی نشأتِ ثانیہ ہے۔ مغربی تہذیب نے اس سائنسی علوم کو تکمیل تک پہنچایا جس کا آغاز مسلم تہذیب کے زمانے میں ہوا تھا۔ مغربی تہذیب نے فطرت یعنی نیچر میں چھپے ہوئے قوانین یعنی لاز آف نیچر کی دریافت کر کے یہ کیا کہ اسلام کی صداقت اور اسلام کی دعوت کے تمام امکانات اعلیٰ ترین سطح پر کھول دیے۔
غالباً یہی تاریخی واقعہ ہے جس کی پیشنگوئی حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: "إن الله لا يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر." اس حدیثِ رسول میں جس تائیدِ دین کا ذکر ہے، اس سے مراد تہذیب یعنی سولائزیشن کے ذریعے وجود میں آنے والی تائید ہے، یعنی فکر و عمل کی سطح پر دینِ حق کے لیے تمام مواقع کا کھل جانا۔ تائیدِ دین کے اس واقعے کا ابتدائی نصف حصہ مسلم تہذیب کے زمانے میں پیش آیا، اور تائیدِ دین کے اس واقعے کا بقیہ نصف حصہ مغربی تہذیب کے ذریعے انجام پایا۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں فاجر انسان سے مراد دراصل سیکولر انسان ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 151۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.