Maulana Wahiduddin Khan
31 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ijtemaee inqilaab ka daur.

Urdu · 31 min

اجتماعی انقلاب کا دور، اس کے بعد تقریباً 4000 سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ تقریباً 2500 سال کے عرصے میں یہ نسل بن کر تیار ہوئی۔ اس نسل کو تاریخ میں بنو اسماعیل، یعنی اسمیلٹس، کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں کے ذریعے وہ گروہ بن کر تیار ہوا جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دعوت نبوت، اعلان سے آگے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ گئی۔ یہاں اس سلسلے کی چند مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے یہ واضح ہو سکے گا کہ دعوت نبوت کا اعلان سے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ جانے کا مطلب کیا ہے۔

نمبر 1: قرآن کی سورہ الانفال میں یہ آیت آئی ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ سورہ نمبر 8، آیت 39۔ یہ آیت مدنی دور میں اتری۔ قرآن کی اس آیت میں ایک آنے والے مستقبل کی خبر دی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اصحاب رسول کی جدوجہد سے دنیا میں ایک نیا تاریخی عمل، یعنی ہسٹوریکل پراسیس، جاری ہوگا۔

اس پراسیس کی تکمیل یہ ہوگی کہ دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ اس سے مراد دین کی سیاسی حکومت، یعنی پولیٹیکل رول، نہیں ہے، بلکہ دین کا نظریاتی، یعنی آئیڈیالوجیکل، غلبہ ہے۔ یعنی دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا غیر مدلل ہو جانا۔ دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا نظریاتی جواز، یعنی آئیڈیالوجیکل جسٹیفیکیشن، سے محروم ہو جانا۔

یہ واقعہ موجودہ زمانے میں مکمل طور پر پیش آ چکا ہے۔ موجودہ دنیا دارالامتحان ہے، اس لیے یہاں قیامت سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے ان کی آزادی چھین لی جائے۔ آزادی کے غلط استعمال کا موقع آدمی کے لیے پہلے بھی تھا اور وہ آج بھی باقی ہے۔ لیکن جہاں تک نظریاتی جواز، یعنی آئیڈیالوجیکل جسٹیفیکیشن، کی بات ہے، وہ دینِ خداوندی کے سوا کسی اور دین کے لیے باقی نہیں رہے گا۔

اس انقلابی عمل کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ہوا، اور بیسویں صدی کے آخر میں یہ عمل اپنے اختتام تک پہنچ گیا۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ اکیسویں صدی میں جو کام کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ پیدا شدہ مواقع کو بھرپور طور پر دعوت حق کے لیے استعمال کیا جائے۔ نمبر 2: قرآن کی سورہ البقرہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب، یعنی کمپینینز، کی طرف سے یہ دعا منقول ہوئی ہے: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا أَسْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا سورہ نمبر 2، آیت 286۔

یعنی: اے ہمارے رب! تو ہم پر بوجھ نہ ڈال، جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اس دعا میں "ہم" سے مراد صرف اصحاب محمد نہیں ہیں۔ توسیع معنوں میں یہ دعا پوری امت محمد کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی گئی ہے، وہ یقیناً پوری ہوئی۔ لیکن یہ اسی وقت ساتویں صدی میں پوری نہیں ہوئی، بلکہ وہ ایک پراسیس کے طور پر انسانی تاریخ میں جاری ہوئی، اور وہ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر مکمل ہوئی۔ اب اکیسویں صدی میں حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ آج کے داعیان حق کو دعوت الی اللہ کے راستے میں نہ وہ مسائل، یعنی پرابلمز، پیش آئیں گے جو صحابہ سے پہلے کے داعیوں کو پیش آئے تھے، اور نہ ان کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اصحاب رسول کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔

اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی تاریخ کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور اس کو دعوت کے لیے استعمال کریں۔ موجودہ زمانے میں دعوت حق کے لیے تمام رکاوٹیں کلی طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ اب اگر کسی داعی کے لیے رکاوٹ پیدا ہو تو وہ یقینی طور پر اس کی اپنی کسی غلط پالیسی کا نتیجہ ہوگی۔ وہ ہرگز حالات کے تحت پیش آنے والی رکاوٹ نہیں ہو سکتی۔

نمبر 3: قرآن کی سورہ حامم السجدہ میں مستقبل کے اعتبار سے ایک پیشن گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِّيهِمْ آَيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ سورہ نمبر 41، آیت 53۔ یعنی: عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ امر پوری طرح ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں دراصل اس عمل کا ذکر ہے جو صلیبی جنگوں، یعنی کروسیڈز، کے بعد شروع ہوا۔ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں وہ علمی واقعہ پیش آیا جس کو تاریخ میں اسپرچول کروسیڈز کہا جاتا ہے۔

اس اسپرچول کروسیڈ کے بعد یورپ کے تمام بڑے بڑے دماغ سائنسی تحقیق میں مصروف ہو گئے۔ انہوں نے فطرت کے پوشیدہ رازوں کو دریافت کیا۔ بیسویں صدی میں یہ عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب آفاق و انفس کے وہ تمام چھپے ہوئے حقائق علمی طور پر ایک معلوم واقعہ بن چکے ہیں، جو قرآن کے الفاظ میں تبیین حق کے لیے ضروری تھے۔

اکیسویں صدی کے داعیوں کا کام یہ ہے کہ وہ ان سائنسی حقائق کو جانیں اور ان کو دعوت حق کے لیے استعمال کریں۔ یہ سائنسی حقائق دعوت کو مسلمہ علمی سطح پر مدلل کرنے والے ہیں۔ نمبر 4: قرآن کی سورہ الحج میں بتایا گیا ہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے کعبے کی تعمیر کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک اعلان عام کیا۔

اس کا ذکر قرآن کے ان الفاظ میں آیا ہے: وَأَدْعُوا فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرِ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ سورہ نمبر 22، آیت 27۔ یعنی: تم لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس آئیں گے، پیدل بھی اور لاغر اونٹنیوں پر بھی، جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔ قرآن کی اس آیت کا براہ راست تعلق حج کے سفر سے ہے، لیکن توسیع طور پر اس میں یہ مفہوم شامل ہے کہ تدریجی عمل کے تحت ایک وقت آئے گا جب کہ لوگ دور دور سے سفر کر کے مکہ پہنچیں، یہاں تک کہ مکہ عالمی سفر کا مرکز بن جائے۔

قرآن کی اس آیت میں اشاراتی طور پر یہ بات موجود ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سفر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جدید مواصلات، یعنی ماڈرن کمیونیکیشن، کی ایجاد نے اس پیشن گوئی کو واقعہ بنا دیا ہے۔ عالمی آمد و رفت اتنی بڑھی ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ساری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں سیاحت، یعنی ٹورزم، نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ایک مستقل ٹورسٹ انڈسٹری وجود میں آ گئی ہے۔

سیاحت اور تجارت وغیرہ کے تحت روزانہ لوگ کروڑوں کی تعداد میں ادھر سے ادھر جاتے ہیں۔ اس واقعے نے موجودہ زمانے میں دعوت کا ایک نیا موقع کھول دیا ہے۔ اب دعوتی موقع روزمرہ کی زندگی میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہو رہا ہے کہ ہر روز کثیر تعداد میں داعی مدعو کے علاقے میں جاتا ہے اور مدعو داعی کے علاقے میں آتا ہے۔

اس صورتحال نے دعوت کے نئے عالمی مواقع کھول دیے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اہل ایمان ان نئے مواقع کو دریافت کریں اور ان کو دعوت کے حق میں استعمال کریں۔ نمبر 5: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکے میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ یہ زمانہ مذہبی جبر، یعنی ریلیجس پرسیکیوشن، کا زمانہ تھا۔

اس زمانے میں کچھ لوگ جو آپ کے اوپر ایمان لائے، ان کو وہاں مشرکین ستانے لگے۔ وہ ان کو جسمانی اذیت پہنچاتے تھے۔ اس وقت کچھ اہل ایمان نے پیغمبر اسلام سے اس صورتحال کی شکایت کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ان حالات کو ہمارے لیے ختم کر دے۔ اس وقت رسول اللہ کعبے کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔

یہ سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے یہ حال تھا۔ یہ سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے یہ حال تھا کہ ایک مومن کے جسم پر لوہے کی کنگھی کی جاتی تھی اور اس کے سر پر آرا چلایا جاتا تھا، مگر اس قسم کی اذیت کے باوجود وہ اپنے دین پر قائم رہتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّىٰ يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنَعَاءِ إِلَى حَضْرَ مَوْتٍ وَلَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهُ صحیح البخاری، رقم الحدیث 6943۔ یعنی خدا کی قسم، یہ امر، یعنی اسلام، ضرور اپنی تکمیل تک پہنچے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک شخص سوار ہو کر ثناء سے حضر موت تک جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا ڈر نہ ہوگا۔

اس حدیث میں صرف ایک زمانی واقعے کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ وہ مستقبل کے بارے میں ایک پیشن گوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد جو انقلاب آیا، اس سے انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل، یعنی پراسیس، شروع ہوا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد جو انقلاب آیا، اس سے انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل، یعنی پراسیس، شروع ہوگا جو آخر کار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا دور ختم ہو جائے گا اور دنیا میں مذہبی آزادی کا دور شروع ہو جائے گا۔ اکیسویں صدی میں یہ پیغمبرانہ مشن، اکیسویں صدی میں یہ پیغمبرانہ پیشن گوئی، آخری حد تک واقعہ بن چکی ہے۔

اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی اس زمانی حقیقت کو دریافت کریں اور پھر جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اس کے مطابق دعوت حق کے کام کی منصوبہ بندی کریں۔ نمبر 6: ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں توحید کا پیغام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ جائے گا۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ مسند احمد، رقم الحدیث 23814۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی خیمہ یا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس خیمے یا گھر کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ دراصل مستقبل کے بارے میں ایک پیشن گوئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی جب کہ یہ ممکن ہو جائے گا کہ اسلام کی دعوت ہر انسان تک پہنچ جائے، ہر چھوٹے یا بڑے گھر میں اسلام کا پیغام داخل ہو جائے۔ اس قسم کا عالمی ادخال کلمہ پراسرار طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت واقع ہوگا۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب مکمل طور پر واقعہ بن چکے ہیں۔

آج وہ تمام مواقع، یعنی اپرچونیٹیز، کھل چکے ہیں جبکہ پیغمبر اسلام کی پیشن گوئی کے مطابق دعوت حق کے کام کو عالمی سطح، یعنی گلوبل لیول، پر ممکن بنایا جا سکے۔ ضرورت ہے کہ آج کے اہل ایمان ان امکانات کو دریافت کریں۔ موجودہ زمانے کے اہل ایمان کی نسل گویا کہ ان تبدیلیوں کی وارث ہے۔ اس پر فرض کے درجے میں یہ ضروری ہے کہ وہ شعوری طور پر ان تبدیلیوں کو جانیں اور ان کو استعمال کرتے ہوئے مذکورہ حدیث کی پیشن گوئی کو واقعہ بنائیں۔

نمبر 7: دجال کے ظہور کے ذیل میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اس وقت اہل ایمان کی جماعت میں سے ایک شخص اس کے مقابلے کے لیے نکلے گا۔ اس رجل مومن کے پاس تلوار یا اور کوئی اسلحہ نہیں ہوگا، لیکن اللہ کی توفیق سے وہ اس مقابلے میں حجت اور برہان کے ذریعے دجال پر غالب آ جائے گا۔ اس کے بعد حدیث کے الفاظ یہ ہیں: هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ صحیح مسلم، کتاب الفتن۔

یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں اور نہ وہ کوئی پراسرار واقعہ ہے۔ یہ دراصل اس لمبے تاریخی عمل، یعنی ہسٹوریکل پراسیس، کے نقطہ انتہا، یعنی کلمینیشن، کو بتاتا ہے جس کے نتیجے میں کسی رجل مومن کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ہتھیار استعمال کیے بغیر صرف دلیل کی طاقت سے دجالی فتنہ، یعنی عظیم ترین شیطانی فتنے، کا خاتمہ کر دے۔ اس قسم کا دعوتی موقع چونکہ پہلی بار وجود میں آئے گا، اس لیے اس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت، یعنی گریٹسٹ وٹنس، کا نام دیا گیا ہے۔

یہ عظیم دعوتی موقع اکیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح ظہور میں آ چکا ہے۔ آج کے اہل ایمان پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ ان جدید امکانات کو دریافت کریں اور پرامن منصوبے کے ذریعے اس کو استعمال کرتے ہوئے وہ عظیم دعوتی رول انجام دیں جس کا آج کی تاریخ کو انتظار ہے۔ نمبر 8: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: إِذَا حَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا حَلَكَ قَيْصَرٌ فَلَا قَيْصَرٌ بَعْدَهُ صحیح البخاری، رقم الحدیث 6629۔ یعنی جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا، اور جب کسری ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا۔

اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے، اس کا تعلق ایک بادشاہ کے خاتمے سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ایک دور کے خاتمے سے ہے۔ اس حدیث میں دراصل یہ پیشن گوئی کی گئی ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوگا جو آخر کار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں شخصی حکمرانی، یعنی ڈائنسٹی، کا دور ختم ہو جائے گا اور عوامی حکمرانی، یعنی ڈیموکریسی، کا دور آ جائے گا۔ اسی طرح ایک اور حدیث رسول میں یہ پیشن گوئی کی گئی ہے کہ اہل ایمان پیش قدمی کرتے ہوئے ایک شہر تک پہنچیں گے۔ وہ نہ کسی ہتھیار سے جنگ کریں گے اور نہ وہ تیر چلائیں گے۔

وہ صرف لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہیں گے اور شجر اور شہر کی دیواریں گر جائیں گی، یہاں تک کہ وہ اس کے اندر داخل ہو جائیں گے۔ صحیح مسلم، رقم الحدیث 7517۔ ان روایات میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشن گوئی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل، یعنی پراسیس، جاری ہوگا۔

اس عمل کا نقطہ انتہا یہ ہوگا کہ دنیا سے مطلق العنان بادشاہت، یعنی ڈکٹیٹرشپ، کا دور ختم ہو جائے گا۔ یعنی وہ دور ختم ہو جائے گا جب کہ سیاسی طاقت ہی اصل طاقت ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد وہ حالات پیدا ہوں گے جب کہ نظریہ، یعنی آئیڈیالوجی، کو طاقت کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ پرامن فکری جدوجہد کے ذریعے ان مقاصد کو حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا جن کو پہلے صرف سیاسی طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا تھا۔

یہ انقلابی دور اب دنیا میں پوری طرح آ چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف طاقت کا ڈی سینٹرلائزیشن پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف طاقت کا ڈی سینٹرلائزیشن، یعنی ڈی سینٹرلائزیشن آف پاور، پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ آج وہ دور ختم ہو چکا ہے جب کہ طاقت صرف ایک سیاسی حاکم کے پاس ہوا کرتی تھی۔

اب ہر انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ سیاسی عہدہ، یعنی پولیٹیکل سیٹ، پر قابض نہ ہوتے ہوئے بھی جس مقصد کے لیے چاہے کام کرے، وہ ہتھیار کا استعمال کیے بغیر صرف امن کی طاقت سے اپنے مطلوب کو حاصل کر سکے۔ اسی طرح یہ پیشن گوئی بھی موجودہ زمانے میں پوری طرح ایک واقعہ بن چکی ہے کہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کا مشن لے کر اٹھنے والے لوگ کسی قسم کا مسلح ٹکراؤ کیے بغیر شہروں میں نفوذ کریں اور لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائیں۔ حدیث رسول کی اس پیشن گوئی کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: دور شمشیر کا خاتمہ، دور دعوت کا آغاز۔ اکیسویں صدی میں اب اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس تاریخی تبدیلی کو دریافت کریں اور ان جدید امکانات کو استعمال کر کے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی سطح پر انجام دیں۔

موجودہ زمانے میں ایک عظیم دعوتی امکان پیدا ہوا ہے، مگر اس عظیم دعوتی امکان کو صرف وہی لوگ استعمال کر سکیں گے جو اپنے شعور کے اعتبار سے اس کے فکری وارث بن سکیں۔ نمبر 9: قرآن کی سورہ النساء میں داعیان اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: أُولَئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِدْهُمْ وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا سورہ نمبر 4 آیت 63۔ یعنی ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو، اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔

Speak to them in such terms as will address their minds. قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قدیم زمانہ روایتی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب بھی مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا بن سکتا تھا، مگر آج کا دور تعقل کا دور، یعنی ایج آف ریزن ہے۔

آج کے انسان کا مائنڈ صرف اس وقت ایڈریس ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے کسی بات کو عقلی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ یہ اللہ تعالی کی رحمت کا ایک پہلو ہے کہ جب وہ ایک چیز کا حکم دیتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کے اسباب بھی فراہم کر دیتا ہے۔ اسلامی دعوت اہل ایمان کی ابدی ذمہ داری ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی اہل ایمان کو اسی طرح اپنا دعوتی فریضہ انجام دینا ہے جس طرح دور قدیم کے اہل ایمان نے اس فریضے کو انجام دیا تھا۔

اللہ تعالی نے داعیان حق کی اس ضرورت کو سمجھا اور موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر وہ فکری تبدیلی پیدا کر دی جس کو استعمال کر کے اسلامی دعوت کو عقلی اسلوب میں پیش کیا جا سکے۔ اسلام کے بعد کے زمانے میں ایک فکری عمل شروع ہوا۔ اکیسویں صدی میں یہ فکری عمل اپنے نقطہ اختتام تک پہنچ چکا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو اس اعلیٰ عقلی اسلوب میں پر پیش کیا جا سکے جو دور جدید کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔

اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو اس اعلیٰ عقلی اسلوب پر پیش کیا جا سکے جو دور جدید کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ ضرورت ہے کہ آج کے داعیان حق اس حقیقت کو جانیں اور اس کو جدید دور میں دعوت حق کے لیے استعمال کریں۔ نمبر 10: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَئُيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ صحیح البخاری، کتاب الجہاد۔ یعنی اللہ تعالی ضرور اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔

اس حدیث رسول میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق ایک پوری تاریخ سے ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے عرب میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل، یعنی پراسیس، شروع ہوا۔ اس عمل کا نشانہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں جس کے بعد اسلامی دعوت کو اس کی اعلیٰ ترین سطح پر انجام دینا ممکن ہو جائے۔ حقائق ربانی کے عالمی اظہار کے تمام ممکن ذرائع وجود میں آ جائیں تاکہ دور آخر کے اہل ایمان اتمام حجت کی سطح پر دعوت حق کا کام انجام دے سکیں۔

یہ منصوبہ کوئی معمولی منصوبہ نہ تھا۔ یہ تاریخ کے رخ، یعنی کاز آف ہسٹری، کو انقلابی طور پر بدل دینے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں سال سے جاری روایتی... اس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں سال سے جاری روایتی دور ختم ہو جائے اور ایک نیا دور شروع ہو۔

یہ وہی دور ہے جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اس دور کو وجود میں لانا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ اتنا بڑا کام تھا جس کو تنہا اہل ایمان انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ضرورت تھی کہ اس میں پوری انسانیت شامل ہو، حتیٰ کہ ایسے محرکات پیدا ہوں کہ فاجر، یعنی سیکولر طبقہ بھی اس عمل میں یکساں طور پر شریک ہو جائے۔

مذکورہ حدیث رسول میں اس عمومی انسانی عمل کا ذکر کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشن گوئی آخری حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ لمبے تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ تمام اسباب واقعہ بن چکے ہیں جو دعوت حق کے لیے تائید کی حیثیت رکھتے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ اہل ایمان زمانے کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور اس کو دعوت حق کے لیے استعمال کر کے دور جدید میں اتمام حجت کا وہ مطلوب کام انجام دیں جس کا خدائی منصوبے کے مطابق قیامت سے پہلے ظہور میں آنا ضروری ہے۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 141۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.