Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tareekh-e-kaainaat ka pahla daur.

Urdu · 5 min

"تاریخِ کائنات" کا پہلا دور: کائنات کو اس کے خالق نے ایک با مقصد کائنات کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل ایک تدریجی اصول پر قائم ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کی ابتدائی تاریخ 6 بڑے ادوار یعنی پیریڈز پر مبنی ہے۔ یہ 6 ادوار حسبِ ذیل ہیں: 1) بگ بینگ، 2) لٹل بینگ، 3) واٹر بینگ، 4) پلانٹ بینگ، 5) اینیمل بینگ، 6) ہیومن بینگ۔

سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا یعنی اسپیس میں ایک عظیم دھماکہ ہوا جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اس وقت کائنات کے تمام اجزاء یعنی پارٹیکلز ایک سپر ایٹم کے اندر جمع تھے۔ اس سپر ایٹم میں دھماکہ ہوا، اس کے بعد اس کے مادی اجزاء وسیع خلا میں پھیل گئے۔ پھر یہ مادی اجزاء مختلف اجسام کی صورت میں جمع ہوئے، اور وہ مادی دنیا وجود میں آئی جس کو ستارے یعنی اسٹارز اور سیارے یعنی پلانٹ کہا جاتا ہے۔

غالباً 1 بلین سال پہلے ایک ستارہ یعنی اسٹار میں لٹل بینگ کا واقعہ ہوا۔ اس کے بعد اس ستارے کے مختلف ٹکڑے ہو گئے۔ اس کے بعد خلا یعنی اسپیس میں وہ مجموعہ بنا جس کو شمسی نظام یعنی سولر سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں یعنی ملکی وے کے کنارے واقع ہے۔

اس کے بعد واٹر بینگ ہوا۔ پھر فضا میں موجود دو گیس یعنی ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی لمبے عرصے تک بارش کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر وہ گہرے سمندروں میں ذخیرہ یعنی ریزروائر کی صورت میں جمع ہو گیا۔

اس کے بعد پلانٹ بینگ ہوا، یعنی زمین کی سطح پر سبزہ اور درخت وجود میں آئے۔ سمندروں کے سوا زمین کی پوری سطح، جو زمین کے تقریباً چوتھائی حصے پر مشتمل ہے، وہ سبزے سے ڈھک گئی۔ اس کے بعد اینیمل بینگ ہوا، اور مختلف قسم کے حیوانات وجود میں آئے۔ سمندر میں مچھلیاں اور خشکی پر چرند و پرند بڑی تعداد میں پیدا ہو گئے۔

اس کے بعد ہیومن بینگ ہوا۔ خالق نے انسان کو پیدا کر کے اس کو زمین پر آباد کیا۔ یہاں سے سیارہ زمین کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی۔ اس تاریخ کو دوسرے الفاظ میں تہذیب کی تاریخ یعنی ہسٹری آف سویلائزیشن کہا جاتا ہے۔

انسان کے سوا جو کائنات ہے، وہ سب کے سب قانون فطرت یعنی لا آف نیچر کے تحت کام کرتی ہے۔ ہر چیز کی سرگرمیوں کے لیے خالق نے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت تمام چیزیں اپنا کردار یعنی رول ادا کرتی ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔

انسان کو اس کے خالق نے کامل آزادی یعنی کمپلیٹ فریڈم عطا کی ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال۔ آزادی کے اسی صحیح یا غلط استعمال کی بنیاد پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 139۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.