Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Nazriyati jawaz ka khatima.

Urdu · 4 min

نظریاتی جواز کا خاتمہ: اس جدید انقلاب کے نتیجے میں جو موافق باتیں پیدا ہوئیں، ان میں سے دو خاص چیزیں یہ تھیں کہ نظریاتی طور پر توحید اور امن کے سوا کوئی اور انتخاب انسان کے لیے باقی نہ رہا۔ سائنسی دریافتوں، یعنی scientific discoveries، کے نتیجے میں ایک طرف یہ ہوا کہ توحید اب ایک ثابت شدہ علمی حقیقت بن گئی۔ اب کوئی شخص اس امتحان کی دنیا میں اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے توحید سے انحراف کر سکتا ہے، لیکن خالص اصولی اعتبار سے اس کے لیے اپنے انحراف کا کوئی نظریاتی جواز، یعنی ideological justification، موجود نہ ہوگا۔ یہی معاملہ امن کے اصول کا ہے، جو کہ صحت مند سماجی تعمیر کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔

قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ مسلح طاقت ہی اصل طاقت ہے؛ کوئی بڑا مقصد صرف مسلح طاقت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جدید انقلاب کے ذریعے یہ قدیم مفروضہ یکسر بدل گیا ہے۔ اس تبدیلی کے دو خاص پہلو ہیں: ایک یہ کہ موجودہ زمانے میں جدید حالات کے نتیجے میں ایک نئی چیز ظاہر ہوئی ہے، جس کو ایک لفظ میں مواقع کا انفجار، یعنی opportunity explosion، کہا جا سکتا ہے۔ ان مواقع کو استعمال کر کے آج ہر مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اب کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ یا سیاسی طاقت کی قطعاً ضرورت نہیں۔ قدیم زمانے میں سیاسی ایمپائر، یعنی political empire، ہوا کرتے تھے؛ آج اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر غیر سیاسی ایمپائر، یعنی non-political empire، بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ دوسری چیز وہ ہے جس کو عمومی تخریب کے ہتھیار، یعنی weapons of mass destruction، کہا جاتا ہے۔ ان نئے ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد اب جنگ انسان کے لیے سرے سے کوئی آپشن ہی نہ رہا۔

اب جنگ کا مطلب صرف تباہی ہے؛ اب کوئی بھی مثبت نتیجہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح امن اب انسان کے لیے واحد آپشن بن گیا۔ اب انسان کے لیے جو آپشن ہے، وہ امن اور جنگ کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ امن اور تباہی کے درمیان ہے۔ آج کے انسان کو یا تو امن کا طریقہ اختیار کرنا ہے یا اپنے آپ کو تباہی کے حوالے کر دینا ہے۔

اس طرح اب تاریخ انسانی کا سفر اس مقام پر پہنچ گیا ہے جس کی طرف قرآن کی مذکورہ آیت "وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله" میں اشارہ کیا گیا تھا۔ تاریخ میں یہ انقلاب اتفاقی طور پر پیش نہیں آیا؛ وہ براہِ راست خدا کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ خدا نے تاریخی عمل، یعنی historical process، کو اس طرح مینج کیا کہ وہ ایک ایسے انجام تک پہنچے جو دعوت حق کے کام کے لیے آخری حد تک موافق ہو۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 138۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.