توحید اور امن سے انحراف: توحید کے معاملے میں انسان نے یہ انحراف کیا کہ اس نے خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش شروع کر دی۔ مخلوقات میں جو چیز بھی نمایاں نظر آئی، مثلاً سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر وغیرہ، ہر چیز انسان کے لیے پرستش کا موضوع بن گئی۔ اس معاملے کو مذاہب کی تاریخ میں "فطرت کی پرستش" یعنی نیچر ورشپ کہا جاتا ہے۔ مظاہرِ فطرت میں چونکہ تعدد یعنی ڈائیورسٹی تھا، اس لیے لوگوں کے معبود بھی متعدد ہو گئے۔
اسی تعددِ الہ کے تصور کو قرآن میں شرک کہا گیا ہے۔ اسی قسم کا انحراف امن کے معاملے میں پیش آیا: انسان اپنے مقصد کو "پرامن جدوجہد" کے بجائے "پرتشدد جدوجہد" کے ذریعے حاصل کرنے لگا۔ اس طرح پوری تاریخ جنگ اور ٹکراؤ کی تاریخ بن گئی۔ قبائلی سرداروں کے درمیان جنگ، راجاؤں کے درمیان جنگ، بادشاہوں کے درمیان جنگ وغیرہ۔
فطرت کے نظام میں یہ انحراف حضرت نوح کے زمانے میں شروع ہوا، وہ مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم کا زمانہ آ گیا۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 136۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.