← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Naya mansuba.
Urdu · 5 min
نیا منصوبہ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کا خلاصہ یہ تھا کہ نظریاتی طور پر انسان کے لیے توحید اور امن ہی واحد آپشن کے طور پر باقی رہے۔ توحید اور امن کے سوا دوسرے آپشن کے لیے کوئی نظریاتی جواز، یعنی آئیڈیالوجیکل جسٹیفیکیشن، باقی نہ رہے۔
موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ البتہ یہ ممکن تھا کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ انسان کے لیے اس معاملے میں نظریاتی جواز باقی نہ رہے۔ یہ منصوبہ معجزاتی طور پر اچانک ظہور میں نہیں آ سکتا تھا۔ اس عالمِ امتحان میں یہی ممکن تھا کہ اس منصوبے کو اسباب کے ماحول کے تحت ظہور میں لایا جائے۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اس منصوبے کے آخری مرحلے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ سورہ نمبر 8، آیت 39۔ یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ کوئی سیاسی واقعہ نہیں ہے۔
وہ تمام تر ایک نظریاتی واقعہ ہے۔ اس میں اس خدائی منصوبے کا ذکر ہے جس کا آغاز ہاجرہ اور اسماعیل سے ہوا، اور اصحابِ رسول پر اس کا ایک مرحلہ مکمل ہوا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں تاریخ میں یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ انسان کے لیے نظریاتی اعتبار سے شرک کا آپشن ختم ہو گیا۔ اسی طرح نظریاتی اعتبار سے انسان کے لیے جنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ وہاں انہوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہو چکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔
اس منصوبے کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں انہیں اس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔ اسی خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔
رسول اور اصحابِ رسول کی خصوصی جدوجہد کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پراسیس جاری ہوا جو بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل کو پہنچا۔ اسی تاریخی پراسیس، یعنی ہسٹوریکل پراسیس، کے وہ نتائج ہیں جن کو ہم موجودہ زمانے میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً انسانی مساوات، مذہبی جبر کا خاتمہ، جمہوریت اور سائنسی انقلاب، جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید کمیونیکیشن کا دور دنیا میں آیا۔
اس کے علاوہ فطرت، یعنی نیچر، کے نئے حقائق دریافت ہوئے۔ اس کے علاوہ فطرت، یعنی نیچر، کے نئے حقائق دریافت ہوئے جو دینِ توحید کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھتے تھے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 136۔