Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tauheed aur amn.

Urdu · 6 min

"توحید اور امن" اس پیغامِ نبوت کے دو خاص اجزا تھے: توحید اور امن۔ خدا کی نسبت سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ ایک اللہ کو اپنا الہٰ یعنی معبود بنائے اور اس کی عبادت کرے۔ وہ اللہ کے حکموں کے مطابق دنیا میں زندگی گزارے۔ یہ بات پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے، خاص طور پر سورہ الاعراف، سورہ نمبر 7، آیات 59 تا 85، اور سورہ الشعراء، سورہ نمبر 26، آیات 105 تا 180 میں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

خدا کی طرف سے آنے والی پیغمبرانہ ہدایت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان اس دنیا میں دوسروں کے درمیان امن کے ساتھ زندگی گزارے۔ خدا کے نزدیک امن کا تصور کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں فطرت کے نقشے کے مطابق رہے۔ خالق نے فطرت کا جو نظام بنایا ہے، وہ اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کرے۔

یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَبِّكُمْ فَأَوْفُ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا سورہ نمبر 7، آیت 85۔ یعنی تمہارے پاس تمہارے رب کے پاس سے کھلی ہوئی دلیل آ چکی ہے، تو تم ناپ اور تول پوری کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دو، اور زمین میں فساد نہ ڈالو۔ اس کی اصلاح کے بعد امن یعنی پیس ہر قسم کی تعمیری سرگرمیوں کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ امن کیا ہے؟

امن دراصل کوئی قائم کرنے کی چیز نہیں؛ فطرت کا نظام تمام تر امن ہی پر مبنی ہے۔ خالق نے جو دنیا بنائی ہے، اس میں خود تخلیقی نظام کے تحت امن کی حالت قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ امن کی اس فطری حالت کو برقرار رکھے۔ انسان اگر فطرت کے اس نظام کو برقرار رکھے تو اس کا نام اصلاح ہے۔

اور انسان اگر فطرت کے اس نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نام فساد ہے۔ قرآن میں وارننگ کے طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان اگر فطرت کے نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کا ہر حصہ آلودگی یعنی پولیوشن سے بھر جائے گا۔ ہوائی آلودگی یعنی ایئر پولیوشن اور آبی آلودگی یعنی واٹر پولیوشن جیسی چیزوں کے ذریعے دنیا انسان کے لیے رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ انسانی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس فساد کے خلاف یہ انتباہ یعنی وارننگ قرآن کی حسبِ ذیل آیت میں موجود ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِ النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ سورہ نمبر 30، آیت 41۔

یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید وہ باز آئیں۔ پچھلی تاریخ میں آنے والے تمام پیغمبروں نے انسانی نسلوں کو ان دونوں حقیقتوں یعنی توحید اور امن کی طرف متوجہ کیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ انسان پیغمبروں کو اپنا رہنما نہ بنا سکا۔ اس نے پیغمبروں کو حقیر سمجھ کر ان کو نظر انداز کر دیا۔

اس تاریخی واقعے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اس نوعیت کی ایک قرآنی آیت یہ ہے: يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ سورہ نمبر 36، آیت 30۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.