Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Assalihun ka daur.

Urdu · 7 min

الصالحون کا دور قرآن کی سورہ الانبیاء میں بعد کے زمانے کی ایک پیشن گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الْزَبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ سورہ نمبر 21، آیت 105۔ یعنی زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ یہ پیشن گوئی موجودہ بائبل میں ان الفاظ میں ملتی ہے: "شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی، اور صادق زمین کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے" but the descendants of the wicked shall be cut off; the righteous shall inherit the land and dwell in it forever سام باب 37، آیات 28 تا 29۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں الصالحون سے مراد پوری تاریخ بشری کے منتخب مومنین، یعنی selected believers ہیں۔

یہ واقعہ قیامت کے بعد آخرت کی دنیا میں پیش آئے گا۔ قیامت کے بعد تمام پیدا ہونے والے انسان حشر کے میدان میں اکٹھا کیے جائیں گے۔ خداوند ذوالجلال اور اس کے فرشتے ظاہر ہوں گے۔ قبل از قیامت دور میں ہر ایک کے عمل کے ریکارڈ کے مطابق اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

کچھ لوگ رد کیے جائیں گے، کچھ لوگ رد کیے ہوئے یعنی rejected قرار پائیں گے۔ کچھ لوگوں کو ان کے قول و عمل کے بہتر ریکارڈ کی بنا پر منتخب کیا جائے گا۔ یہ منتخب لوگ ابدی جنتوں میں داخل کیے جائیں گے، جو ہر اعتبار سے ایک کامل دنیا، یعنی perfect world ہوگی۔ اس جنتی دنیا میں ابدی طور پر خوف و حزن کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

یہاں داخل ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لیے ہر اعتبار سے کامل طور پر fulfillment کا انتظام ہوگا۔ قیامت کے بعد کا جنتی دور ایک ideal دور ہوگا۔ یہ انسان کی وہ آخری منزل ہوگی جس کے لیے موجودہ دنیا کی تخلیق کی گئی تھی۔ موجودہ دنیا کو بنانا اور یہاں انسان کو آباد کرنا امتحان کے لیے تھا، یعنی عملی زندگی میں امتحان لے کر ان نادر افراد کا انتخاب کرنا جو اعلیٰ معرفت کی سطح پر جینے والے ہوں، جو مکمل طور پر مثبت شخصیت، یعنی positive personality کے مالک ہوں، جو اختیار کے باوجود مکمل طور پر ربانی ڈسپلن کے پابند ہوں، جو اپنے اعلیٰ اوصاف کی بنا پر اس قابل ہوں کہ وہ خدا کے پڑوس میں رہ سکیں، جو اپنی تخلیق کے اعتبار سے انسان مگر اپنے اوصاف کے اعتبار سے فرشتوں کے مانند ہوں، جو پوری کائنات کا خلاصہ ہوں، جس طرح گلاب کا پھول ایک پورے درخت کا خلاصہ ہوتا ہے۔

یہ خوش قسمت لوگ ابدی جنت میں رہیں گے، لیکن جنت محض عیش و آرام کا مقام نہیں ہوگا، بلکہ وہ کامل معنوں میں نفیس سرگرمیوں کا مقام ہوگا۔ جنت میں عیش و آرام کی حیثیت دراصل خدائی میزبان، یعنی divine hospitality کی ہوگی۔ اہل جنت کا اصل مشن وہ ہوگا جس کو قرآن میں وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا سورہ نمبر 39، آیت 69 اور وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورہ نمبر 39، آیت 75 کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ اہل جنت اپنی سرگرمیوں کے ذریعے انوارِ رب کو ظاہر کرنے کا ابدی پروسیس شروع کریں گے۔

جنت کی دنیا میں الحمدللہ کلچر اپنی کامل صورت میں ظہور پذیر ہوگا۔ اہل جنت کے لیے یہ عمل ایک پرلطف سرگرمی، یعنی enjoyable activity ہوگی۔ جنت کی یہ دنیا اتنی زیادہ پر مسرت ہوگی کہ اہل جنت کبھی وہاں تھکن یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں گے۔ جنت کی اس دنیا کو دوسرے لفظوں میں spiritual civilization یا ربانی civilization کہا جا سکتا ہے۔

یہ دور ابتدائی طور پر موجودہ دنیا میں شروع ہوا، لیکن موجودہ دنیا ایک محدود دنیا تھی، اس لیے ربانی civilization کا فروغ اس دنیا میں صرف محدود طور پر ہو سکا۔ آخرت کی لامحدود دنیا میں اس ربانی civilization کا فروغ اپنی آخری صورت میں ہوگا۔ اہل ایمان اعلیٰ اللہ کو جنت کی دنیا میں ابدی طور پر unfold کرتے رہیں گے۔ ہر دن ان کے لیے نئی دریافت کی خوشی کا دن ہوگا۔

یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 127۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.