Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ahle jannat ka mission.

Urdu · 6 min

اہلِ جنت کا مشن دوسری اعلیٰ چیز جو ربانی انسان کو جنت میں مشن کی صورت میں حاصل ہوگی، وہ معرفت کی مسلسل دریافت ہے۔ یہ معرفت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مختلف الفاظ میں، مثلاً کلمات اللہ، سورہ نمبر 18 آیت 109، آیاتِ رب، سورہ نمبر 55 آیت 130، اور آیاتِ رب، سورہ نمبر 41 آیت 53 وغیرہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس خالق نے یہ انتہائی بامعنیٰ کائنات بنائی ہے، وہ خود بلاشبہ ہزاروں بامعنیٰ کائنات سے زیادہ بامعنیٰ ہے۔ اس کی معنویت کا ایک بہت چھوٹا حصہ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے، مگر سائنس دانوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کی دریافتیں اتنی زیادہ حقیر ہیں کہ وہ کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے، یعنی knowing more and more about less and less کے ہم معنیٰ ہیں۔

ایسے لامحدود حد تک بامعنیٰ خالق کی دریافت بیک وقت ایک انتہائی پر مسرت تجربہ ہے، اور اسی کے ساتھ وہ ایک لامتناہی عمل بھی۔ یہی وہ پر مسرت مشن ہے جس میں اہلِ جنت ہمیشہ کے لیے پر مسرت طور پر مشغول رہیں گے۔ انسان اصلاً ذہن یعنی mind کا نام ہے۔ ذہن سوچنے کا کام کرتا ہے۔

ذہن کے اندر سوچنے کی صلاحیت، یعنی thinking capacity، لامحدود حد تک پائی جاتی ہے۔ ایک سائنس دان نے کہا کہ پوری کائنات میں جتنے پارٹیکل ہیں، اتنے پارٹیکل صرف ایک فرد کے ذہن یعنی individual brain میں ہوتے ہیں۔ انسان کا ذہن لامحدود ہے، اس کے مقابلے میں انسان کی عمر بہت زیادہ محدود ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے ذہنی fulfillment، یعنی intellectual fulfillment، حاصل ہونا ممکن نہیں۔

جبکہ ذہنی fulfillment ہی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی خوشی، یعنی pleasure، کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کو استعمال کر کے سوچے اور نئی نئی دریافتیں کرے۔ دریافت یعنی discovery انسان کی سب سے بڑی لذت ہے، اور یہی لذت انسان کو اس دنیا میں حاصل نہیں ہوتی۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ اس سوال کا جواب ہے۔

خدا کا تخلیقی منصوبہ بتاتا ہے کہ انسان کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ موت کے بعد ابدی طور پر جاری رہتی ہے۔ موت کے بعد کی یہ دنیا نہ صرف ابدی ہے بلکہ وہ معیاری اور کامل بھی ہے۔ اس اگلی دنیا میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ اپنے ذہن کے potential کو unfold کرے۔ وہ اپنی تخلیقیت یعنی creativity کو ابدی طور پر جاری رکھے۔

وہ مسلسل طور پر وجد آمیز دریافتوں، یعنی thrilling discoveries، کی فضا میں جیتا رہے۔ یہ ابدی موقع انسان کو آخرت کی جنت میں ملے گا۔ جنت سادہ طور پر عیش کا مقام نہیں ہے۔ جنت کا زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ جنت کی آفاقی وسعتوں میں وہ تمام اسباب انتہائی معیاری صورت میں موجود ہوں گے، جو دنیا میں صرف ناقص صورت میں ملے تھے۔

قرآن کے مطابق دنیا میں انسان کو سب چیزیں دی گئی ہیں، لیکن وہ سب بقدرِ ضرورت ہیں۔ وَأَتَيكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُهُ لیکن آخرت میں یہ تمام چیزیں بقدرِ خواہش دی جائیں گی۔ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ انسان پیدائشی طور پر معیار پسند، یعنی idealist ہے۔ ہر عورت اور مرد اپنی فطرت کے اعتبار سے کامل پسند، یعنی perfectionist ہوتے ہیں۔

مگر تجربہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں اپنے ideal کو نہیں پاتا۔ ہر انسان ایک ایسی چیز کا متلاشی ہے جو موجودہ دنیا میں اس کے لیے آخری حد تک ناقابلِ حصول ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ہر انسان ایک متلاشیِ جنت حیوان ہے۔ Man is a paradise-seeking animal.

یہ جنت انسان کو صرف آخرت میں ملے گی۔ اس انسان کو جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کا استحقاق ثابت کرے۔ موجودہ دنیا جنت کا استحقاق ثابت کرنے کے لیے ہے، اور آخرت عملی طور پر جنت کو پانے کے لیے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 125۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.