← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Jannat ka daur.
Urdu · 7 min
جنت کا دور: قرآن کی سورہ الکہف کی آخری چند آیتیں یہ ہیں: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا، خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا. قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي، وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا. سورہ نمبر 18، آیات 107 تا 109: یعنی بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیا، ان کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے؛ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے، تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں۔
اگرچہ ہم ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد کے لیے لے آئیں۔ قرآن کی ان آیات کے چار حصے ہیں؛ اس کے پہلے حصے "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ" میں یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیقی منصوبے کے مطابق خدا کا مطلوب انسان کون ہے؟ یہ وہ انسان ہے جو خالق کو دریافت کرے، یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ اس کی پوری زندگی ہر اعتبار سے اس کے مطابق ڈھل جائے، وہ کامل معنوں میں ایک ربانی انسان بن جائے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جو آخرت کی دنیا میں خدا کے سب سے بڑے انعام کا مستحق قرار پائے گا۔
آیت کا دوسرا حصہ یہ ہے: كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا. اس حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ربانی انسان کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر قیام کر سکے۔ جنت کی دنیا میں یہ قیام مہمانی، یعنی ہاسپٹیلٹی کے طور پر ہوگا۔ یعنی جنت میں ان ربانی انسانوں کا قیام سادہ طور پر صرف عیش کے لیے نہ ہوگا، بلکہ وہ مہمانی کے طور پر ہوگا۔
یعنی خدائی منصوبے کے مطابق اہل جنت مکمل طور پر ایک سرگرم زندگی گزاریں گے۔ یہ زندگی ان کے لیے پوری طرح تعب اور مشقت سے خالی ہوگی۔ وہ ان کے لیے "شغل فاکح" سورہ نمبر 35 آیت 55 کے ہم معنی ہوگی، یعنی پرلطف سرگرمیوں، یعنی enjoyable activities کی زندگی۔ اس جنتی زندگی کے بارے میں تیسری بات یہ فرمائی کہ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا یعنی اس میں ہمیشہ رہنے کے باوجود اہل جنت کبھی اکتاہٹ، یعنی boredom، کا شکار نہ ہوں گے۔
وہ دوامی طور پر، انتہائی معنوں میں، ایک پرلطف، وہ دوامی طور پر، انتہائی معنوں میں، ایک پرلطف مشغولیت کے ساتھ جنت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ یہ سرگرمیاں کبھی ختم نہ ہوں گی، اور نہ کبھی ان کی دلچسپیوں کی حد آئے گی۔ یہ اہل جنت کے لیے ایک ایسی مسرت ہوگی جو کامل بھی ہوگی اور ابدی بھی۔ مذکورہ قرآنی بیان کا چوتھا حصہ یہ ہے: قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي، لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي، وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا.
قرآن کے یہ الفاظ اہل جنت کی اس اعلیٰ ترین سرگرمی کو بتاتے ہیں، جس میں اہل جنت کامل لذت و مسرت کے ساتھ مشغول رہیں گے۔ یہ سرگرمی ہے "کلمات اللہ" کی دریافت، یعنی discover کرنا، اور اس طرح اعلیٰ معرفت کے حصول کے لامتناہی سفر میں مشغول رہنا۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ محبوب چیز یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشیں، یعنی desires، پوری ہوں۔ اس کو پورا fulfillment حاصل ہو۔
اس کو انسان کی زندگی کا مادی تقاضا کہہ سکتے ہیں۔ یہ تمام تقاضے جنت میں انتہائی کامل اور ideal صورت میں پورے ہوں گے۔ قرآن میں اسی کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ. سورہ نمبر 41 آیت 31: یعنی تمہارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے، اور تمہارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرو گے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 123۔