Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ek mughalata.

Urdu · 4 min

ایک مغالطہ: جدید سائنس کی دریافتیں دراصل "اعلیٰ اللہ" یعنی Wonders of God کی دریافتیں ہیں؛ وہ خالق کی معرفت کا ایک نیا خزانہ کھولنے کے ہم معنی تھیں۔ لیکن جن مغربی علما نے اس میدان میں کام کیا، وہ سب سیکولر ذہن کے لوگ تھے۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوا کہ یہ دریافتیں معرفتِ رب کے بجائے سیکولر نظریے کی حمایت بن کر رہ گئیں، حالانکہ سائنس کا یہ سیکولرائزیشن صرف ایک مغالطہ یعنی fallacy کی حیثیت رکھتا تھا۔ مثلاً ایک مغربی مفکر نے جدید سائنس کی دریافتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ "ان دریافتوں سے معلوم ہوا کہ فطرت یعنی Nature میں ایک قانونِ اسباب یعنی Law of Causation قائم ہے"؛ یعنی ہر واقعہ اسباب و علل کے نظام کے تحت واقع ہوتا ہے۔

اس کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ "اگر واقعات فطری اسباب کا نتیجہ ہوتے تو وہ فوق الفطری اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے"۔ "If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. " مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے، کیونکہ فطرت کا قانون اپنے آپ میں توجیح نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیح کا طالب ہے۔ اس اعتبار سے صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اگر واقعات قوانین سے کنٹرول ہوتے تو ضروری ہے کہ اس کا ایک کنٹرول کرنے والا ہو۔

"If events are controlled by laws, then there must be a controller of laws. " جرمن سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن (1955) نے فطرت کے نظام کا گہرا مطالعہ کیا، اس کو نظر آیا کہ فطرت کے نظام میں نہایت بامعنی ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اس طرح وہ گویا کہ معرفت کے دروازے تک پہنچ گیا۔ لیکن اس نے یہ کہہ دیا کہ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ وہ قابلِ فہم ہے۔

"The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible." یہ بلاشبہ ایک مغالطہ آمیز بیان ہے۔ آئن اسٹائن نے جب فطرت میں غیر معمولی معنویت دیکھی تو اس کو برعکس طور پر یہ کہنا چاہیے تھا کہ فطرت میں اتنی زیادہ معنویت پائی جاتی ہے کہ ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈیزائنر ہو۔ "Nature is so well designed that it is inconceivable that there is no designer of it." کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 122۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.