Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Husul-e-marifat ka zariah.

Urdu · 6 min

حصولِ معرفت کا ذریعہ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ معرفت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود پر سوچتا ہے، وہ کائنات کے مظاہر میں غور و فکر کرتا ہے۔ اس طرح غور و فکر کے ذریعے وہ رموزِ معرفت کو دریافت کرتا ہے۔ ان رموزِ معرفت میں 50% حصہ خارجی مظاہر کا ہے، اور 50% حصہ داخلی اعتبار سے علمِ اشیاء کا۔

یہی وہ علمِ اشیاء ہے جس کو وجدان یعنی انٹیوشن کہا جاتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ آدمی دونوں کے درمیان مطابقت کو دریافت کرتا ہے۔ یہ واقعہ مسلسل پیش آتا ہے، اور اس طرح مومن کا سفرِ معرفت مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ معرفت کا حصول کوئی پراسرار چیز نہیں؛ وہ تخلیق میں تدبر کر کے خالق کو دریافت کرنے کا نام ہے۔

یہ عمل اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں میں 7ویں صدی عیسوی میں شروع ہو گیا تھا۔ قرآن کے ذریعے ان کے اندر تحریک ہوئی، اور وہ کائنات کی چیزوں میں معرفت کے نقطۂ نظر سے غور و فکر کرنے لگے۔ مثال کے طور پر، ایک صحابیِ رسول ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ «ولقد تركنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وما يقلب طائر جناحيه في السماء إلا ذكر لنا منه علما» ۔ مسند احمد مسند احمد ابن حنبل، رقم الحدیث 21361۔

یعنی ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اس حال میں چھوڑا کہ ایک چڑیا بھی آسمان میں اپنا پر پھڑپھڑاتی تھی، تو آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔ تخلیق کے نظام میں غور و فکر کر کے معرفت کی خوراک حاصل کرنے کا کام مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر شروع ہوا، اور صدیوں تک جاری رہا۔ علمِ کلام میں جس چیز کو مبنی بر براہین استدلال کہا جاتا ہے، وہ یہی ہے۔ مگر مسلمان علمِ معرفت یا سائنس آف معرفت کو ایک حد سے آگے نہ بڑھا سکے۔

اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں غور و فکر کے لیے صرف روایتی فریم ورک یعنی ٹریڈیشنل فریم ورک موجود تھا، اور روایتی فریم ورک میں مشاہدہ اور تجربے کا عمل صرف محدود دائرے میں ممکن ہوتا تھا۔ اس معاملے میں زیادہ وسیع غور و فکر صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا، جبکہ دوربین یعنی ٹیلیسکوپ اور خردبین یعنی مائیکروسکوپ جیسے آلات ایجاد ہوئے۔ دوربین کو پہلی بار گلیلیو نے 1609 میں فلکیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیا۔ خردبین پہلی بار 1590 میں دریافت ہوئی۔

ان دریافتوں کے بعد عالمِ کبیر یعنی میکرو ورلڈ اور عالمِ صغیر یعنی مائیکرو ورلڈ دونوں کا مشاہدہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ممکن ہو گیا۔ معرفت کے حقائق جو اب تک انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے، وہ اب انسان کے براہِ راست علم میں آنے لگے۔ بعد کے دور میں یہ کام تمام تر اہلِ مغرب نے انجام دیا۔ 19ویں صدی اور 20ویں صدی میں مغربی علماء کے ذریعے فطرت کی تحقیقات سامنے آئیں۔

انہوں نے معرفتِ خداوندی کے نئے وسیع تر دروازے کھول دیے۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ پہلے جو چیز صرف عقیدے کا درجہ رکھتی تھی، وہ اب علمی مسلمے کے درجے میں ایک ثابت شدہ واقعہ بن گئی۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب "مذہب اور جدید چیلنج"۔ مغربی سائنس دانوں نے موجودہ زمانے میں جو کام کیا، وہ علمِ معرفت کے اعتبار سے بہت بڑا کام تھا۔

اس اعتبار سے یہ مغربی علماء پیغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم کی اس پیشن گوئی کا مصداق تھے۔ «وَإِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» صحیح البخاری، رقم الحدیث 3062۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 121۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.