دریافت یا ان فولڈنگ؟ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو علمی دنیا میں دریافت، یعنی ڈسکوری، کہا جاتا ہے، وہ حقیقت میں دریافت نہیں ہے بلکہ وہ ان فولڈنگ ہے، یعنی جو چیزیں انسان کی فطرت میں پہلے سے بالقوّہ، یعنی پوٹینشل طور پر موجود ہیں، ان کو بالفعل، یعنی ایکچول طور پر، وقوع میں لانا۔ جنات کو اپنے لامعلوم کو معلوم بنانا تھا، اس میں وہ ناکام ہو گئے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی مخلوق کے لیے تاثیر کا معاملہ فرمایا، یعنی غیر شعوری سطح پر موجود چیزوں کو شعور کی سطح پر معلوم بنانا۔ سائنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سائنس دانوں کی ہر دریافت اتفاقی دریافت ہے، وہ صرف اتفاقی طور پر سائنسدان کے علم میں آتی ہے۔
It is discovered by scientists by the way of accident. مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سائنسی دریافتوں کا معاملہ ایکسیڈنٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ کو-ایکسیڈنس کا معاملہ ہے، یعنی سائنس دان کوئی تجربہ کر رہا ہوتا ہے، اس وقت ایک چیز فلیش کرتی ہے، یہ فلیش اس کے لاشعور میں موجود ایک علم سے مطابقت کرتا ہے۔ اس کے بعد سائنسدان مزید تجربہ کر کے ایک نئی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے، جس کو دریافت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک سائنسدان ایک بار ایک برتن کا مشاہدہ کر رہا تھا، اس برتن کے اوپر ایک ڈھکن تھا، اور برتن میں پانی بھرا ہوا تھا۔
برتن کے نیچے آگ جل رہی تھی، پانی کا درجہ حرارت جب 100 ڈگری تک پہنچ گیا تو اس کے اندر پیدا ہونے والی بھاپ سے ڈھکن اوپر اٹھ گیا۔ سائنسدان اس پر غور کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے دریافت کیا کہ پانی کا درجہ حرارت جب بڑھتا ہے تو اس کے مالیکیول ٹوٹ کر ادھر ادھر اڑنے لگتے ہیں۔ مالیکیول کے اس انتشار، یعنی مالیکیولر ڈس انٹیگریشن، سے اسٹیم پاور پیدا ہوتا ہے، اس پاور کے ذریعے انجن چلائے جا سکتے ہیں۔ پانی کی یہ خاصیت پہلے سے اس کے لاشعور میں موجود تھی۔
مذکورہ مشاہدہ اس کے لاشعور سے مطابقت کر گیا۔ مطابقت کے نتیجے میں انسان نے وہ چیز دریافت کی جس کو اسٹیم پاور کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دریافتیں کو-ایکسیڈنس کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ Discoveries are results of co-accidents.
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 120۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.