Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Secular civilization,Spiritual civilization.

Urdu · 6 min

سیکولر سویلائزیشن، اسپرچول سویلائزیشن۔ قرآن کی سورہ الزاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" سورہ نمبر 51، آیت 56۔ اس آیت میں "یعبدون" سے مراد "یعرفون" ہے، یعنی اللہ نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ غور و فکر، یعنی contemplation ہے، یعنی تخلیقات میں غور کر کے خالق کی معرفت حاصل کرنا، اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔

مقصدِ تخلیق کے بارے میں ایک مشہور قول یہ ہے: "كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ" کشف الخفا، جلد 2، صفحہ 1011۔ یعنی اللہ نے فرمایا کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، تو میں نے اس مقصد کے لیے خلق، یعنی انسان کو پیدا کیا۔ کسی عارف کا یہ قول اصلًا سورہ الزاریات کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے؛ قائل نے کلام کی رعایت سے اس کو حدیثِ قدسی کے اسلوب میں بیان کر دیا ہے۔ اگر اسلوب کو بدل دیا جائے اور اس کو معروف تفسیری اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا: "كَانَ اللَّهُ كَنْزًا مَخْفِيًّا، فَأَحَبَّ أَنْ يُعْرَفَ، فَخَلَقَ الْخَلْقَ" اللہ تعالیٰ نے پہلے جنات کو پیدا کیا، ان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ کائنات میں چھپے ہوئے رموزِ معرفت کو دریافت کریں اور خدا کی عظمت کا اعلان و اظہار کریں۔

مگر جنات کے سردار ابلیس کے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات، أنا خير منه سورہ نمبر 7 آیت 12 کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے۔ وہ اللہ کی کبریائی کی معرفت حاصل نہ کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنات نے خود اپنی عظمت، یعنی self-glory کو جانا، مگر وہ خدا کی عظمت، یعنی glory of God کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔

انسان کی تخلیق اس لیے ہوئی کہ وہ جنات کے بعد ان کا جانشین بنے۔ اس وقت یہ معاملہ فرشتوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ انہوں نے یہ اشکال ظاہر کیا کہ جس طرح جن مقصدِ تخلیق کو پورا کرنے میں ناکام رہے، اسی طرح انسان بھی ناکام رہے گا؛ وہ تخلیق کے مقصد کو پورا نہ کر سکے گا۔ فرشتوں کے اشکال کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ، یعنی demonstration، کا انتظام کیا۔

اس مظاہرے کا خلاصہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے: "عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَآءَ كُلَّهَا" سورہ نمبر 2، آیت 31۔ اس آیت میں "اسماء" سے مراد "مسمّیات" ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اضافی نام کے طور پر انسان کو تمام اشیاء کا علم عطا فرمایا۔ اس نے انسان کی فطرت میں تمام تخلیقات کا علم داخل کر دیا۔ اس طرح انسان اپنے لاشعور، یعنی unconscious mind کی سطح پر، بطور امکان، یعنی potentially، ہر چیز سے واقف ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے وقتی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس کے بعد فرشتے مطمئن ہو گئے۔ قرآن کے اس حصے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات کو دماغ دیا گیا تھا، لیکن اجزاءِ معرفت کا پیشگی علم انہیں حاصل نہ تھا۔ ان سے مطلوب تھا کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے کائنات میں چھپے ہوئے رموزِ معرفت کو دریافت کریں، انہیں غور و فکر کے ذریعے اپنے نامعلوم کو معلوم بنانا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام کے ساتھ انسان کو پیدا فرمایا۔ وہ مزید اہتمام یہ تھا کہ جن اجزاءِ معرفت کو اسے دریافت کرنا تھا، اس کو پیشگی طور پر اس کے لاشعور میں داخل کر دیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: "بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ" سورہ نمبر 29، آیت 49۔ یعنی تمام اجزاءِ معرفت پیشگی طور پر انسان کے لاشعور، یعنی unconscious mind میں موجود ہیں۔

اب انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اس لاشعور کو شعور میں لے آئے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 118۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.