Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aalami inzaar-o-tabsheer.

Urdu · 4 min

عالمی انذار و تبشیر: قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا سورہ نمبر 25، آیت 1۔ یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کو عالمی انذار و تبشیر کے لیے اتارا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن 7ویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا، اس وقت اور اس کے بعد ہزار سال تک وہ ذرائع موجود نہ تھے جن کو استعمال کر کے قرآن کرہ ارض کے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے۔

نہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے موجود تھے، نہ تیز رفتار سواریاں تھیں، نہ جدید کمیونیکیشن تھا۔ اس زمانے میں ساری دنیا میں صرف علاقائی زبانیں، یعنی ریجنل لینگویجز تھیں۔ کوئی ایسی بین الاقوامی زبان، یعنی انٹرنیشنل لینگویج، موجود نہ تھی جس میں ترجمہ کیا جائے تو قرآن تمام لوگوں کے لیے قابلِ فہم بن سکے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں کیوں کر یہ ممکن تھا کہ قرآن کا مقصدِ نزول پورا ہو اور پہنچانے والے اس کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں؟

اس کا جواب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ الانعام میں یہ آیت آئی ہے: وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ سورہ نمبر 6، آیت 19۔ یعنی: اے رسول! کہہ دو کہ مجھ پر یہ قرآن اترا ہے تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کر دوں، اور وہ بھی جسے یہ قرآن پہنچے۔

یعنی میں اپنے زمانے کے لوگوں کو آگاہ کروں، اور میرے بعد آنے والے اہلِ ایمان اپنے زمانے کے لوگوں کو اس سے آگاہ کرتے رہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنے ہم زمانہ، یعنی کنٹمپرریز، لوگوں تک قرآن کو پہنچا دے۔ اس کے بعد امت کی یہ مستقل ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور کے لوگوں تک قرآن کو پہنچاتی رہے۔ امت کی ہر نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں تک اسی طرح قرآن کو پہنچائے جس طرح پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں تک قرآن کو پہنچایا تھا۔

قرآن کی دعوتی اشاعت کا یہ کام نسل در نسل کیا جانے والا کام ہے۔ اس ابتدائی دور میں قرآن کی دعوتی اشاعت کا کام جن لوگوں نے انجام دیا، ان کو صحابی اور تابعین اور مفسرین وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح دورِ آخر میں بھی امت کا ایک خصوصی گروہ ہوگا جو اپنے زمانے کے نئے پیدا شدہ مواقعِ دعوت کو استعمال کر کے قرآن کی عمومی اشاعت کا یہ کام انجام دے گا۔ آخری دور کا یہی وہ خصوصی گروہ ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا نام دیا گیا ہے۔

کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 117۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.