Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Bad ke daur ke ahl-e-imaan.

Urdu · 5 min

بعد کے دور کے اہلِ ایمان۔ روایات میں بعد کے دور کے ایسے اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو ایمان و اسلام کے خصوصی اوصاف کے حامل ہوں گے۔ اس سلسلے میں چند روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مثلُ أُمَّتِي مثلُ المطر" "لا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ"۔

الترمذی، رحمہ اللہ، حدیث 2869۔ یعنی میری امت کی مثال بارش کی مثال جیسی ہے؛ نہیں معلوم کہ اس کا پہلا زمانہ بہتر ہوگا یا اس کا آخری زمانہ۔ اس حدیث میں بارش کی مثال کے ذریعے ایک تاریخی پروسیس، یعنی historical process، کو بتایا گیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے 7ویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اپنے آغاز کے اعتبار سے ایک زمانی ظاہرہ تھا۔

اس کے ذریعے جو تاریخی پروسیس جاری ہوا، وہ اپنے ما بعد انجام کے اعتبار سے مستقبل کا ایک واقعہ ہے۔ اس مستقبل سے مراد غالباً وہی تاریخی ظاہرہ ہے جس کا حوالہ دوسری روایت میں "اخوانِ رسول" کے الفاظ میں ملتا ہے۔ حضرت مالک الاشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عبادٌ ليسوا بأنبياء ولا شهداء، يغبطهم النبيون وشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة" ۔ مسند احمد، جلد 5، صفحہ 341۔

یعنی خدا کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو پیغمبر ہیں اور نہ شہید ہیں؛ ان کے اوپر پیغمبر اور شہید بھی رشک کریں گے، ان کے اس درجے اور قربت کی وجہ سے جو قیامت کے دن انہیں خدا کے یہاں حاصل ہوگا۔ اس روایت میں غالباً ان اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو دورِ سائنس میں پیدا ہوں گے، جبکہ فطرت میں نئی دریافتوں کی بنا پر معرفت کا نیا فریم ورک وجود میں آئے گا، اور اس کو استعمال کر کے کسی کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اعلیٰ معرفت کا تجربہ کرے۔ غالباً اس جماعت سے مراد وہی لوگ ہیں جن کو دوسری روایت میں "اخوانِ رسول" کہا گیا ہے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں کا معاملہ ایک اعتبار سے یکساں ہے: وہ ہے اپنے زمانے کے مواقع کا دینی استعمال۔

اصحابِ رسول نے بنو اسماعیل کے ذریعے پیدا ہونے والی صحرائی تہذیب کے مواقع کو استعمال کیا۔ اخوانِ رسول بعد کے زمانے میں سائنسی دور کے مواقع کو دین کے لیے استعمال کریں گے۔ ان مواقع کو اخوانِ رسول کے ذریعے استعمال کیے جانے کی جو صورتیں مطالعے کے ذریعے سے سمجھ میں آتی ہیں، وہ غالباً یہ ہوں گی: 1) فطرت میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے پیدا ہونے والے استدلالی مواقع کا استعمال، مثلاً خدا کے وجود پر فلاسفہ اور متکلمین کے مبنی بر معنویت استدلال، یعنی argument from design، کو جدید شواہد کے ذریعے مدلل کرنا۔ 2) جدید مواصلاتی مواقع کا عالمی دعوت کے لیے استعمال، یعنی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور دوسرے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت کی عالمی اشاعت۔

3) بعد کے دور میں حاصل ہونے والی مذہبی آزادی کا بھرپور استعمال، دعوت حق کی عمومی اشاعت کے لیے پرامن جدوجہد۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ 115۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.