← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Ikhwan-e-rasul ka role.
Urdu · 6 min
اخوانِ رسول کا رول: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعوتی مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکے میں کیا۔ آپ خدا کے آخری رسول تھے؛ آپ کے زمانے میں پہلی بار آپ کے متبعین یعنی فالوورز کی ایک طاقتور ٹیم بنی۔ اس ٹیم کو تاریخ میں "اصحابِ رسول" کہا جاتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی ایک پیشن گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں دوبارہ آپ کے متبعین کی ایک طاقتور ٹیم بنے گی۔
اس دوسری ٹیم کو حدیث میں "اخوانِ رسول" کہا گیا ہے۔ یہ دوسری ٹیم، خدا کی خصوصی مدد سے، آخری زمانے میں اہم دعوتی رول ادا کرے گی۔ ان دونوں جماعتوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الفتح کی آخری آیتوں کے مطالعے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکروں کے اوپر شدید ہیں، وہ باہم ایک دوسرے کے لیے مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں سجدے میں دیکھو گے، وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدے کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تورات میں ہے، اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی: اس نے اپنا اکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔
وہ زائرین کو بھلا معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور ایک بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ سورہ نمبر 48 آیت 29 قرآن کے اس حصے میں دو حوالوں کا ذکر ہے: تورات اور انجیل۔ تورات کے حوالے سے اصحابِ رسول کا وہ انفرادی کردار بیان ہوا ہے جس کا اظہار دورِ اول میں، خود زمانۂ رسالت میں پیش آیا۔
انہوں نے خالص جوہر یعنی میرٹ کی بنیاد پر پیغمبرِ اسلام کو پہچانا، اور کسی تحفظ یعنی ریزرویشن کے بغیر آپ کا ساتھ دیا۔ وہ اعلیٰ درجے کے بااصول افراد تھے، وہ کامل معنوں میں عبادت گزار تھے، وہ اللہ پر اعتماد کرنے والے تھے۔ موجودہ تورات میں ان کے لیے "قدسیوں" یعنی سینٹس کا لفظ آیا ہے۔ ڈیوٹرانومی باب 33 آیت 2 انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اصحابِ رسول کا جو ذکر آیا ہے، وہ درخت کی تمثیل کے روپ میں ہے۔
میتھیو باب 13 ورس 31 تا 32: درخت کی تمثیل سے مراد تاریخی عمل یعنی ہسٹوریکل پراسیس ہے۔ اصحابِ رسول کا ایک رول وہ ہے جو انہوں نے اپنے زمانے میں ادا کیا۔ ان کا دوسرا رول وہ تھا جو پراسیس کے روپ میں انجام پایا۔ اصحابِ رسول کے انقلابی عمل نے تاریخ میں ایک پراسیس جاری کیا جو مختلف صورتوں میں بعد کی نسلوں میں آگے بڑھتا رہا۔
4000 سال پہلے ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک پراسیس جاری ہوا تھا۔ اس پراسیس کے نقطۂ انتہا یعنی کلمینیشن کے طور پر، ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول یعنی کمپینینز آف دی پرافٹ کا گروہ وجود میں آیا۔ اس کے بعد دوسرا تاریخی پراسیس وہ تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے انقلابی عمل کے ذریعے تاریخ میں شروع ہوا۔ اس دوسرے تاریخی پراسیس کا نقطۂ انتہا یعنی کلمینیشن وہ لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوانِ رسول یعنی برادرز آف دی پرافٹ کہا گیا ہے۔
احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوانِ رسول کا یہ گروہ غالباً اس زمانے میں پیدا ہونے والا تھا جس کو عام طور پر "سائنسی دور" کہا جاتا ہے۔ اخوانِ رسول کا گروہ سائنسی زمانے کی دریافتوں سے واقف ہو کر اعلیٰ معرفتِ رب حاصل کرے گا۔ دوسری طرف، وہ نئے طاقتور ذرائع کو استعمال کر کے اس عالمی دعوت کو انجام دے گا جس کو حدیث میں "ادخال الکلمۃ فی کل البیوت" یعنی ہر گھر میں کلمۂ اسلام کا داخلہ کہا گیا ہے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 114۔