اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا مشترک رول: اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول ایک ہی امت کے دو مختلف گروہ ہیں، دونوں گروہوں کے درمیان بظاہر 1000 سال سے زیادہ کا فاصلہ ہوگا۔ دونوں اپنے اپنے دور کے اعتبار سے دعوت الی اللہ کا کام انجام دیں گے، مگر دونوں گروہوں کے درمیان ایک چیز مشترک، یعنی کامن، ہوگی: وہ یہ کہ دونوں اللہ کی خصوصی توفیق سے ایک ایسے منفی اتحاد، یعنی نیکسس، کو توڑیں گے جو دعوتی مشن کے راستے میں سنگین رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ اصحابِ رسول کا زمانہ 7ویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں یہ صورتحال تھی کہ ہزاروں سال کی روایات کے نتیجے میں شرک اور پولیٹیکل پاور کے درمیان خطرناک قسم کا اتحاد، یعنی نیکسس، قائم ہو گیا تھا۔
یہ اتحاد دعوت الی اللہ کے کام کو آگے بڑھانے میں ایک مستقل رکاوٹ، یعنی روڈ بلاک، بنا ہوا تھا۔ شرک کے علم بردار پولیٹیکل پاور کی مدد سے توحید کی دعوت کو ابتدا ہی میں کچل کر ختم کر دیتے تھے۔ اصحابِ رسول نے شرک اور پولیٹیکل پاور کے اس منفی اتحاد کو اپنی بے پناہ قربانیوں کے ذریعے ختم کیا۔ ساسانی ایمپائر اور رومی ایمپائر کے خلاف مسلح ٹکراؤ اسی قسم کا آخری اور فیصلہ کن واقعہ تھا۔
اس ٹکراؤ کا آغاز دونوں ایمپائر کی طرف سے کیا گیا۔ اس وقت اصحابِ رسول نے خلیفہ عمر فاروق کی قیادت میں بے مثال قربانی کا ثبوت دیا، یہاں تک کہ دونوں ایمپائر ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ توحید کا رکا ہوا سیلاب ایک طوفان بن کر سارے عالم میں پھیل گیا۔ اسی طرح 20ویں صدی میں ایک نیا غیر مطلوب اتحاد، یعنی نیکسس، قائم ہوا ہے۔
اس اتحاد کو الحاد، یعنی ایتھیزم، اور سائنس کے درمیان اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے علمِ فطرت کا نام ہے، لیکن الحاد کے علم برداروں نے سائنس کو غلط تعبیر کے ذریعے الحادی نظریات کی حمایت کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے سائنس کو اپنے مقصد کے لیے ہائی جیک کر لیا۔ یہ گویا سیکولرائزیشن آف سائنس کا معاملہ تھا۔
اس طرح عملاً یہ ہوا کہ جدید سائنس دعوتِ توحید کی معاون بننے کے بجائے اس کی رقیب، یعنی رائیول، بن گئی۔ بدقسمتی سے لوگوں نے ہائی جیکڈ سائنس کو جانا۔ وہ پیور سائنس سے بے خبر رہے، اس لیے وہ سائنس کے بارے میں منفی ہو گئے۔ انہوں نے سائنس اور الحاد کو ہم معنی سمجھ لیا۔
بعد کے زمانے کے اخوانِ رسول دوبارہ یہ کارنامہ انجام دیں گے کہ وہ سائنس اور الحاد کے اس اتحاد کو توڑیں اور دوبارہ توحید کو ایک فکری اور نظریاتی سیلاب کا درجہ عطا کر دیں۔ اصحابِ رسول کو اس مقصد کے لیے مسلح جہاد کرنا پڑا تھا۔ اخوانِ رسول کے زمانے میں حالات بدل چکے ہوں گے۔ اخوانِ رسول اپنا مقصد فکری جہاد، یعنی آئیڈیالوجیکل جہاد، کے ذریعے حاصل کریں گے۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 112۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.