Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Taeed bazari-e-secular tahzeeb.

Urdu · 7 min

تائید بذریعہ سیکولر تہذیب ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن الله لا يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر. صحیح البخاری، رقم الحدیث 3062۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید کرے گا، فاجر انسان کے ذریعے۔ اس حدیث میں فاجر کا لفظ گنہگار کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ سیکولر یا غیر مومن یعنی unbeliever کے معنی میں ہے۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بار بار ایسا ہوا کہ ایک غیر مومن یا غیر متقی انسان نے کسی موقع پر دینِ خداوندی کی مدد کی، مثلاً ہجرت کے مشکل سفر میں عبداللہ ابن عرق کی رہنمائی، خیبر کے غزوے میں عثمان الظفری کا صحابہ کے ساتھ لڑنا وغیرہ۔ اس قسم کی تائیدِ دین کا غالباً سب سے بڑا واقعہ وہ ہے جو 20ویں صدی عیسوی میں پیش آیا، جدید دور میں مغرب کے مفکرین اور سائنس دانوں نے غیر معمولی محنت کر کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا۔ اس کے نتیجے میں جدید مغربی تہذیب وجود میں آئی۔ یہ تہذیب ایک سیکولر تہذیب تھی، اور اس کو وجود میں لانے والے افراد بھی سب کے سب سیکولر تھے، نیز اس کا استعمال بھی عام طور پر سیکولر مقاصد کے لیے کیا گیا۔

لیکن اس جدید تہذیب کے اندر ایک اور عظیم امکان چھپا ہوا تھا، یہ دعوتی امکان تھا۔ ان دعوتی مواقع نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنایا کہ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچا دیا جائے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں "ادخال کلمہ" کہا گیا ہے۔ عالمی سطح پر ادخال کلمے کا دعوتی کام پراسرار طور پر نہیں کیا جا سکتا، یہ کام قدیم روایتی وسائل کے ذریعے بھی انجام دینا ممکن نہ تھا۔

مثلاً عقبہ بن نافع، تابعی، وفات 683 عیسوی، گھوڑے پر سوار ہو کر افریقہ کی شمالی سرحد تک گئے، لیکن اس زمانے میں بحر اٹلانٹک کو، یعنی Atlantic Ocean کو پار کرنے کا کوئی وسیلہ موجود نہ تھا۔ اس لیے ان کا دعوتی مشن افریقہ کے ساحل سے آگے نہ بڑھ سکا۔ مغربی تہذیب کے ذریعے دعوت کے جو نئے مواقع کھلے، وہ بنیادی طور پر دو قسم کے مواقع تھے۔ اس کا ایک پہلو وہ تھا جس کو فکری پہلو کہا جا سکتا ہے، یعنی فکری اور نظریاتی اعتبار سے نئے دعوتی مواقع کا پیدا ہونا۔

مثلاً مکمل مذہبی آزادی، عمومی سطح پر روحِ تجسس یعنی spirit of inquiry کا وجود میں آنا، مذاہب کا غیر اعتقادی مطالعہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ یہ ہوا کہ سائنسی مطالعے کے نتیجے میں فطرت یعنی nature میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ دریافتیں گویا کہ اعلیٰ اللہ یعنی wonders of God کی دریافتیں تھیں۔ ان دریافتوں کے نتیجے میں مذہبِ توحید کو خود انسان کے قائم کردہ علمی معیار پر مدلل کرنا ممکن ہو گیا۔

مستقبل میں پیش آنے والا یہی عظیم دعوتی امکان ہے، جس کو قرآن کی سورہ حامِم السجدہ میں بطور پیشنگوئی اس طرح بیان کیا گیا تھا: سنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْأَفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ. سورہ نمبر 41 آیت 53۔ اس سلسلے میں پہلا اہم واقعہ 18ویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے دعوت کے کام کو دستی کتابت کے مرحلے سے نکال کر پرنٹنگ کے مرحلے میں پہنچا دیا۔

اسی طرح جدید کمیونیکیشن کی دریافت ہے۔ جدید کمیونیکیشن اور ملٹی میڈیا نے 20ویں صدی عیسوی میں پہلی بار حقیقی طور پر اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدائی پیغام کو نہ صرف سارے عالم میں پہنچایا جا سکے، بلکہ اس کو اتنی سرعت کے ساتھ انجام دیا جائے کہ وقت کا معاملہ اضافی یعنی relative ہو جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں فوری مواصلات یعنی instant communication کہا جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمیونیکیشن اور میڈیا کے میدان میں یہ ناقابلِ قیاس ترقی اسی لیے ہوئی کہ آخری دور کے داعیوں کی جماعت یعنی اخوانِ رسول اس کو استعمال کر کے ادخال کلمے کے عمل کو مؤثر طور پر انجام دے سکے۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 111۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.