Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ikhwan-e-rasul ka daur.

Urdu · 10 min

اخوانِ رسول کا دور تاریخ میں تیسرا رول اس گروہ کا ہے جس کو حدیث میں "اخوانِ رسول" کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَ لَسْنَا إِخْوَانُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ أَنْتُمَ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ. صحیح مسلم، رقم الحدیث 249۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان یعنی بھائیوں کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی مشن میں ساتھ دینے والے معاصر اہلِ ایمان، یعنی contemporary believers، کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔

تاریخ کے آخری دور میں، پیغمبرِ اسلام کے دعوتی مشن کے لیے دوبارہ اٹھنے والے غیر معاصر اہلِ ایمان کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دعوتِ الی اللہ کے مشن کو دوبارہ دریافت کریں گے اور آخری زمانے کے انسانوں تک حق کا پیغام پہنچائیں گے۔ اخوانِ رسول کا مشن ایک اور حیثیت سے معلوم ہوتا ہے، جس میں ان کے دعوتی مشن کو ادخالِ کلمہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لَا يَبْقَى عَلَىٰ ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ.

مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4۔ یعنی زمین کی پشت پر کوئی خیمہ یا کوئی گھر باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آخری زمانے میں اسلام کی سیاسی حکومت ساری دنیا میں قائم ہو جائے گی۔ یہ حدیث واضح طور پر دعوتی توسیع کے معنی میں ہے، نہ کہ حکومتی توسیع کے معنی میں۔

حدیث میں کلمہ اسلام کا لفظ ہے، نہ کہ حکومتِ اسلام کا لفظ۔ دعوت کی عالمی توسیع کا یہ کام آخری زمانے میں سائنٹیفک کلچر کی تائید سے انجام پائے گا۔ آخری زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے ایسے وسائل اور ایسی ٹیکنالوجی دریافت ہوگی جو تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دے گی کہ کرۂ ارض پر بسے ہوئے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچ جائے، خواہ نہ ماننے والے اس کو نہ مانیں اور ماننے والے اس کو مان کر خدا کے انعام کے مستحق بنیں۔ اس پیشن گوئی سے مراد واضح طور پر بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں ظاہر ہونے والا وہ دور ہے جس کو کمپیوٹر ایج کہا جاتا ہے۔

تاریخ کا آخری رول الصالحون سورہ نمبر 21 آیت 105 کے لیے مقدر ہے۔ یہ رول قیامت کے بعد جنت میں ملکوتی کلچر، یعنی angelic کلچر کی تائید سے انجام پائے گا۔ حدیثِ رسول کی پیشن گوئی کے مطابق آخری زمانے میں اخوانِ رسول کا ظاہر ہونا یقینی ہے، تاکہ وہ دعوتی عمل انجام پائے جو آخری زمانے کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ جس طرح ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے لیے ایک رول مقدر تھا جس کو انہوں نے انجام دیا، اسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے لیے ایک رول مقدر ہے جس کو وہ اللہ کی توفیق سے انجام دیں گے۔

دنیا میں کوئی فرشتہ ظاہر ہو کر یہ اعلان نہیں کرے گا کہ فلاں گروہ اخوانِ رسول کا گروہ ہے۔ اس قسم کا اعلان صرف آخرت میں ہوگا، البتہ صاحبِ معرفت افراد اس کو پہچانیں گے اور اس کا ساتھ دے کر آخرت کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔ اخوانِ رسول کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں، قرآن اور حدیث کے مطالعے سے اس کو یقینی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ دو بڑے دوروں یعنی periods میں تقسیم ہے: روایتی دور اور سائنسی دور۔

امت مسلمہ سے ہر زمانے میں ایک ہی کام مطلوب ہے، اور وہ دعوتِ الی اللہ کا کام ہے۔ روایتی دور میں جن لوگوں نے اس کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیا، وہ اصحابِ رسول کہے جاتے ہیں۔ اسی طرح بعد کے سائنسی دور میں جو لوگ دعوت کے کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیں، وہ اخوانِ رسول قرار پائیں گے۔ مزید مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول نے جو کام انجام دیا، وہ قرآن کے الفاظ میں اظہارِ دین سورہ نمبر 48 آیت 29 کا کام تھا۔

بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول جو کام انجام دیں گے، وہ حدیث کے الفاظ میں ادخالِ کلمہ اسلام کا کام ہوگا۔ ادخالِ کلمہ کا لفظ اپنے آپ یہ متعین کر رہا ہے کہ اس کا زمانہ کیا ہوگا۔ دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں ادخالِ کلمہ کا کام صرف اس وقت انجام دیا جا سکتا ہے جبکہ اس کے لیے اس کے موافق اسباب پیدا ہو چکے ہوں۔ مثلاً عالمی کمیونیکیشن، مذہبی آزادی وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب پیدا ہو چکے، اس لیے یقینی ہے کہ وہ زمانہ اب وقوع میں آ چکا ہے۔ جبکہ اخوانِ رسول کی جماعت ظاہر ہو اور وہ نئے مواقع کو استعمال کر کے عالمی ادخالِ کلمہ کا کام انجام دے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سارا کام بشر کی سطح پر ہوگا، نہ کہ فوق البشر کی سطح پر۔ اصحابِ رسول بشر تھے، انہوں نے بشر کی سطح پر اپنے رول کو انجام دیا۔

اصحابِ رسول کو ان کے معاصرین میں سے صرف ان لوگوں نے پہچانا جو یہ جانتے تھے کہ اصحابِ رسول بشر ہیں، نہ کہ فوق البشر۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کا رول بھی بشر کی سطح پر ہوگا۔ اس بنا پر اخوانِ رسول کو پہچاننے اور ان کا ساتھ دینے کی توفیق صرف وہ لوگ پائیں گے جو ان کو بشر کی سطح پر پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو لوگ اخوانِ رسول کے بارے میں کوئی پراسرار تصور رکھتے ہوں، جو ان کو بشر کے بجائے فوق البشر کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہوں، وہ اخوانِ رسول کے زمانے میں اخوانِ رسول کو پہچاننے میں اسی طرح ناکام رہیں گے جس طرح اصحابِ رسول کے زمانے میں لوگ اصحابِ رسول کو پہچاننے میں ناکام رہے۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 108۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.