انسان مرکزی پلان: خدا کا تخلیقی منصوبہ، انسان مرکزی منصوبہ، یعنی مین سنٹرڈ پلان ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ سورہ نمبر 45، آیت 13۔ یعنی زمین اور آسمان کا پورا نظام انسان کی ضرورت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ ہر چیز براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انسان کی کسی نہ کسی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔
ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن نازل ہوا، اس وقت یہ بات صرف ایک عقیدے کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اکیسویں صدی عیسوی میں یہ چیز ایک سائنسی حقیقت بن چکی ہے۔ جدید ترین سائنسی تحقیقات نے بتایا ہے کہ پوری کائنات کسٹم میڈ کائنات ہے، یعنی مکمل طور پر انسانی تقاضوں کے مطابق۔ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے آگاہ کرنے کے لیے ہر دور میں خدا کی طرف سے پیغمبر بھیجے گئے۔ یہ پیغمبر عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتے تھے، اس لیے ان کے معاصرین ان کو پہچان نہ سکے۔
انہوں نے ان کا استہزاء سورہ نمبر 35 آیت 30 کیا، اور ان کو ماننے سے انکار کر دیا۔ دعوتی مشن کے لیے ہمیشہ ایک خارجی تائید کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے انبیاء کو یہ تائید معجزہ یعنی میراکل کے ذریعے دی گئی۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گیا، سورہ نمبر 17 آیت 59۔ اس کے برعکس، آپ کے لیے خصوصی منصوبے کے تحت قابلِ کار انسانوں کی ایک طاقتور ٹیم فراہم کی گئی۔
اس ٹیم کی تائید سے پیغمبر اسلام نے اپنے تاریخی مشن کو مکمل کیا۔ اسی ٹیم کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیم ایک صحرائی کلچر یعنی ڈیزرٹ کلچر کے ذریعے تیار کی گئی۔ اس صحرائی کلچر نے گویا کہ تائید کا وہ کام کیا جو پیغمبروں کے زمانے میں معجزے کے ذریعے انجام پایا تھا۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 107۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.