Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ilmi tausi ka asal sabab

Urdu · 6 min

علمی توسیع کا اصل سبب— علم کی اس توسیع کا اصل سبب بلاشبہ قرآن تھا۔ قرآن انسانی تاریخ کی پہلی کتاب ہے جس میں بار بار، نہایت تاکید کے ساتھ، یہ بات کہی گئی کہ زمین و آسمان کی چیزوں میں غور کرو۔ قرآن نے اس غور و فکر کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ اس کو عبادت کا درجہ دے دیا۔ سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں کائنات میں غور و فکر کرنے والوں کو خصوصی مقام دیتے ہوئے فرمایا: الَّذِينَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ سورہ نمبر 3، آیت 191۔

اور سورہ فاطر میں بارش کے نظام، نباتات اور حیوانات، اور پہاڑوں کی ساخت وغیرہ کا مطالعہ کرنے والوں کو علماء۔ سورہ نمبر 35، آیت 28 کا درجہ دیا گیا۔ قرآن میں پہلی بار اس حیثیت کا انکشاف کیا گیا کہ زمین و آسمان کو اس کے خالق نے انسان کے لیے مسخر، یعنی سب سرونٹ بنا دیا ہے۔ سورہ نمبر 45، آیت 13۔

اس تصور کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیچر انسان کو اپنا خادم نظر آنے لگی، نہ کہ معبود۔ اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ قرآن کی ان آیتوں نے اہل ایمان کو علم کے ایک توسیعی مفہوم سے متعارف کیا۔ اس کے مطابق پوری کائنات گویا کہ ایک وسیع لائبریری قرار پائی۔

علم ایک محدود شعبہ نہ رہا، بلکہ وہ ایک افاقی شعبہ بن گیا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا رواج تھا۔ شرک دراصل مظاہر فطرت کی پرستش، یعنی نیچر ورشپ، کا دوسرا نام ہے۔

شرک کے نظریے کے تحت فطرت، یعنی نیچر، پرستش کی چیز بنی ہوئی تھی۔ جو چیز پرستش کا موضوع، یعنی آبجیکٹ آف ورشپ، کا درجہ رکھتی ہو، وہ اسی وقت تحقیق کا موضوع، یعنی آبجیکٹ آف انویسٹیگیشن، نہیں بن سکتی۔ مسلم دورِ اقتدار میں قرآن کی آئیڈیالوجی کے تحت یہ ہوا کہ عمومی طور پر فطرت، یعنی نیچر، کو الوہیت، یعنی ڈیوینیٹی، کے درجے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مظاہر فطرت بڑے پیمانے پر تحقیق و مطالعے کا موضوع بن گئے۔

اس نئے کلچر کا پہلا مرکز مدینہ بنا۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچا۔ اس کے بعد قاہرہ اور بغداد میں اس کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس کے بعد وہ مسلم اسپین تک پہنچا اور قرطبہ اور غرناطہ اس کا مرکز بنے۔

مسلم اقتدار کے تحت اس دورِ علم نے کائنات کی تمام چیزوں کو مطالعہ اور تحقیق کا موضوع بنا دیا، جبکہ اس سے پہلے اس کو صرف تقدس اور عبودیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس حقیقت کا اعتراف مختلف اہل علم نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی، وفات 1975، نے یہ سوال قائم کیا ہے کہ فزیکل سائنس تمام تر فطرت، یعنی نیچر، کی دریافت کا نام ہے۔ یہ فطرت ہمیشہ سے دنیا میں موجود تھی۔

انسان اول دن سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ پھر ایسا کیوں ہوا کہ فطرت کی یہ دریافت بہت زیادہ تاخیر کے ساتھ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہو سکی؟ آرنلڈ آرنلڈ ٹائن بی نے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ قدیم زمانے میں انسان نے نیچر، یعنی فطرت، کو مقدس، یعنی سیکریڈ، سمجھ لیا تھا۔ وہ نیچر کو خدائی کا درجہ دیے ہوئے تھا۔

اس بنا پر انسان نیچر کی تحقیق یا اس کو مسخر کرنے کی بات نہ سوچ سکا۔ ٹائن بی، یعنی آرنلڈ ٹائن بی، کے مطابق بعد کے زمانے میں جب توحید، یعنی مونزم، کو فکری غلبہ حاصل ہوا اور اس نے شرک کے نظریے کو ختم کیا، تو اس کے بعد انسان کے اندر نیچر کے بارے میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی جو آخر کار سائنسی انقلاب کا سبب بنی۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب "اسلام دور جدید کا خالق"۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 106۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.