مسلم دورِ اقتدار: رسول اور اصحابِ رسول 622 عیسوی میں مکے سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مدینے میں مسلمانوں کا ایک سٹی اسٹیٹ قائم ہو گیا، یعنی شہری ریاست۔ 632 عیسوی میں جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو پورا عرب مدینے کے سیاسی سینٹر کے تحت آ چکا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں کا سیاسی اقتدار تیزی سے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔
یہ مسلم اقتدار مختلف نشیب و فراز کے ساتھ تقریباً 1000 سال تک باقی رہا۔ یہ مسلم سیاسی اقتدار اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک ایمپائر کا درجہ رکھتا تھا۔ وہ اصولاً اسلام کی آئیڈیالوجی پر قائم تھا۔ اس طویل دورِ اقتدار میں انسانیت کو بہت سے مثبت فائدے حاصل ہوئے، مثلاً انسانی مساوات کے دور کا آنا، توہم پرستی کا خاتمہ، عدل و انصاف کا قیام وغیرہ۔
اگرچہ فطرت کے عام قانون کے مطابق مسلم اقتدار کے طویل دور میں بہت سی کمیاں پائی جاتی تھیں، لیکن عملی اعتبار سے اس دور نے انسانی تاریخ کو ایک نئے دورِ ترقی سے آشنا کیا۔ مسلم دورِ اقتدار کا سب سے زیادہ دور رس رول یہ تھا کہ اس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار علم کو عمومی توسیع کے درجے تک پہنچایا۔ اسلام کے ظہور سے پہلے علم کا دائرہ بہت محدود تھا۔ عام طور پر لوگ ناخواندہ، یعنی illiterate، ہوتے تھے۔
مطالع کتب کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی کتابیں برکت کے طور پر پڑھی جائیں یا بادشاہوں کے حالات کا مطالعہ کیا جائے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 105۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.