Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Mushtarak tayeedi amal

Urdu · 3 min

مشترک تائیدی عمل: ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کی جماعت کا بننا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا؛ وہ ایک لمبے تائیدی عمل کے ذریعے انجام پایا۔ یہ تائیدی عمل تھا صحرائی حالات میں خصوصی تربیت کے ذریعے بنو اسماعیل کی نسل کو وجود میں لانا۔ اس نسل کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ غیر فطری ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ اس بنا پر یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی استثنائی صلاحیت رکھتے تھے۔

اسی صلاحیتِ قبولیت کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: يَقَادُ الْزَيْتُ هَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ سورہ نمبر 24، آیت 35۔ بیسویں صدی عیسوی میں ڈی کنڈیشننگ کا یہ واقعہ ایک اور نظام کے تحت پیش آیا۔ یہ سیکولر تہذیب کے تحت سیکولر تعلیم اور سیکولر افکار، یعنی سیکولر تھاٹس، کا نظام تھا۔ موجودہ زمانے کے سیکولر تعلیمی اداروں کو بعض لوگوں نے منفی نام دے کر قتل گاہ، یعنی سلاٹر ہاؤس، بتایا۔

اسی طرح انہوں نے جدید سیکولر تہذیب کو اسلام دشمن تہذیب کہا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ادارے ڈی کنڈیشننگ کے ادارے، یعنی انسٹی ٹیوشنز آف ڈی کنڈیشننگ تھے۔ ان جدید تعلیمی اداروں نے یہ کیا کہ وہاں تعلیم پانے والے افراد کے سابق شاکلے کو توڑ کر ان کو اس قابل بنایا کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور تعصبات، یعنی پریجوڈسز، سے خالی ہو کر چیزوں کو ایز اٹ از دیکھ سکیں۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہی کام جدید سیکولر تہذیب نے بھی انجام دیا۔

اس طرح جدید سیکولر اداروں میں تعلیم پا کر جو افراد تیار ہوئے، وہ گویا کہ بیسویں صدی کے بنو اسماعیل تھے۔ یہ لوگ اپنی تربیت کے تحت غیر متعصبانہ ذہن رکھتے تھے۔ وہ اس قابل تھے کہ ان کے سامنے بے آمیز حق پیش کیا جائے تو وہ اس کے بارے میں آزادانہ طور پر سوچیں اور اس کو قبول کر لیں۔ اس طرح یہ جدید نسل ان لوگوں کے لیے ایک موافق نسل بن گئی جن کو موجودہ زمانے میں اخوانِ رسول کا رول ادا کرنا تھا۔

یہ ایک مشترک تائیدی عمل کا واقعہ ہے جو دونوں گروہوں کے لیے خصوصی خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 104۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.