Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Haqeeqi taswir ,tareeqi taswir

Urdu · 4 min

حقیقی تصویر، تاریخی تصویر۔ آج جب "اصحابِ رسول" کا نام لیا جاتا ہے تو اس وقت تک اس کو مکمل نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ ان کے نام کے ساتھ "رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین" جیسے تعظیمی الفاظ شامل نہ کیے جائیں۔ آج "اصحابِ رسول" کا لفظ مسلمہ طور پر ایک پرعظمت لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصحابِ رسول کی یہ تصویر اس وقت بنی ہے جبکہ ان کے ساتھ بعد کی تاریخی عظمتیں شامل ہو گئیں۔

لیکن اصحابِ رسول کی تصویر ان کے معاصرین کے لیے بالکل عام انسانوں جیسی تھی: صلح حدیبیہ 6 ہجری کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح کی گفتگو ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے ساتھ 1400 اصحاب تھے۔ اس موقع پر قریش کے نمائندہ، عروہ بن مسعود الثقفی نے صحابہ کو دیکھ کر حقارت کے ساتھ ان کو "اشواب" یعنی محض ایک بھیڑ، یعنی crowd کا نام دیا تھا۔ السیرہ النبویہ، ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 317۔

یہی معاملہ یقینی طور پر بعد کے زمانے کے گروہ "اخوانِ رسول" کے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ ان کے معاصرین کی اکثریت ان کو پہچاننے میں ناکام رہے گی۔ یہ عام انسانی کمزوری ہے۔ مشہور مثل ہے کہ پیغمبر اپنے زمانے میں پہچانا نہیں جاتا۔

A prophet is never honored in his own land. اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنے معاصرین کو عام انسانوں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو ایسے فرد یا گروہ کے ساتھ بعد کو پیش آنے والے تاریخی واقعات ان کے نام کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ بعد کے زمانے کے لوگ جب ان کا نام لیتے ہیں تو ایک تاریخی انسان یا تاریخی گروہ کا تصور ان کے ذہن میں آتا ہے، نہ کہ اس انسان یا اس گروہ کا تصور جو کہ خود اپنے زمانے میں پایا جاتا تھا۔

حقیقی انسان اور تاریخی انسان کا یہی فرق دوبارہ کام کرے گا، اور لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ سابق اصحابِ رسول کی عظمت تو خوب بیان کریں گے، لیکن وہ اپنے معاصر اخوانِ رسول کو کمتر سمجھ کر انہیں نظر انداز کر دیں گے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 103۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.