Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Hamd kya hai

Urdu · 10 min

حمد کیا ہے؟ حمد صرف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی اور اس کا سزاوار نہیں کہ اس کی حمد کی جائے۔ حمد کی اصل "مدح" ہے، لیکن حمد میں مبالغے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے حمد کا مطلب اعلیٰ تعریف، یعنی high praise ہے۔

جس ہستی کی تعریف کی جائے، اس کے لحاظ سے تعریف کرنے والے کے اندر جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص اللہ کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ "الحمدللہ"، تو یہ سادہ طور پر صرف مدح اور تعریف کا ایک کلمہ نہیں ہوتا۔ اس میں شکر و اعتراف، احسان مندی، اور جذباتی تعلق جیسے تمام اعلیٰ احساسات لازمی طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے حمد، مدح کے معنی میں ہے، لیکن استعمال کی نسبت سے اس میں معنوی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

حمد کے لغوی معنی اگرچہ وہی ہیں جو مدح کے معنی ہیں، لیکن حمد کا لفظ جب رب العالمین کی نسبت سے بولا جائے تو وہ مدح + praise + کے ہم معنی بن جائے گا۔ ایک انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے، وہ کائنات کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیق کے مظاہر میں خالق کو دریافت کرتا ہے، تو اس کے اندر احساسات کا سمندر معجزن ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ بے تابانہ طور پر کہہ اٹھتا ہے: "الحمدللہ رب العالمین"۔ یہ شعوری حمد خدا کی ہستی کا اعلیٰ ترین اعتراف ہے۔

اس کے بعد اعتراف کا اور کوئی درجہ نہیں۔ انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی کو پائے اور اس کے لیے اپنی طرف سے کمالِ اعتراف کے جذبات پیش کرے۔ انسان جب ایک خدا کو اپنی اس فطرت کی پکار کے جواب کے طور پر دریافت کرے، تو اسی کا نام توحید ہے۔ اور جب انسان اپنے ان جذبات کو کسی غیرِ خدا کی طرف منسوب، یعنی attribute، کر دے، اور اس سے وہ تعلق پیدا کر لے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ سورہ نمبر 2 آیت 165، تو اسی کا نام شرک ہے۔

توحید پر مبنی دین اللہ کا مطلوب دین ہے، اور شرک پر مبنی دین اللہ کا غیر مطلوب دین۔ اصحابِ رسول کا ایک استثنائی رول تھا، وہ رول یہ تھا کہ وہ تاریخ میں "الحمد لغير اللہ" کلچر کے غیر مطلوب تسلسل کو توڑیں، اور "الحمدللہ" کلچر کے مطلوب دور کا آغاز کریں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں قتال یعنی جنگ کا لفظ زمانے کی رعایت سے آیا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ صورتحال تھی کہ "الحمد لغير اللہ" کلچر نے سیاسی اقتدار، یعنی political power، کی سرپرستی حاصل کر لی تھی۔

اس لیے "الحمد لغير اللہ" کلچر کا خاتمہ کرنے کے لیے وقت کے سیاسی اقتدار سے مسلح ٹکراؤ پیش آیا۔ ساتویں صدی عیسوی میں دو بڑے سیاسی ایمپائر تھے جو "الحمد لغير اللہ" کلچر کے فعال سرپرست بنے ہوئے تھے۔ یہ تھے رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر۔ وہ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ "الحمد لغير اللہ" کلچر کا رواج پوری طرح قائم رہے۔

چنانچہ انہوں نے عرب کے صحرا میں اٹھنے والی تحریکِ توحید یا "الحمدللہ" کلچر کو اپنے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا، اور اس کے خلاف خود اپنی طرف سے مسلح کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اس کے نتیجے میں اصحابِ رسول کو رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں دفاعی طور پر جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں اصحابِ رسول کی طاقت تقریباً صفر، یعنی zero، کی حیثیت رکھتی تھی۔

اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد کی۔ ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ دونوں ایمپائر 10 سال کے اندر دو بار خود ایک دوسرے کے خلاف مسلح جنگ میں مبتلا ہو گئے۔ اس باہمی ٹکراؤ نے دونوں کو آخری حد تک کمزور کر دیا۔ باہمی جنگ کے ذریعے پیش آنے والی یہی دو طرفہ مغلوبیت ہے، جس کی طرف قرآن کی سورہ الروم کی ابتدائی آیتوں میں اشارہ کیا گیا ہے: سورہ نمبر 30 آیت 2 تا 5۔

بائبل میں کئی ایسی پیشنگوئیاں ہیں جن کا تعلق اصحابِ رسول سے ہے۔ ان میں سے ایک پیشنگوئی وہ ہے جس کا تعلق رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کی مغلوبیت کے اسی واقعے سے ہے۔ اس واقعے کو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں، ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے، قدیم ٹیلے جھک گئے"۔ He looked and startled the nations, and the everlasting mountains were scattered to habakkuk.

چیپٹر نمبر 3، ورس نمبر 6۔ خلیفہ ثانی عمر ابن الخطاب کے زمانۂ خلافت 634 تا 644 عیسوی میں صحابہ کی جماعت ایران میں داخل ہوئی۔ ان کی فتوحات کو دیکھ کر ایران کا سپہ سالار رستم مرعوب ہو گیا۔ اس نے صحابہ کے وفد کو اپنے دربار میں گفت و شنید کے لیے بلایا۔

گفتگو کے دوران رستم نے صحابیِ رسول ربیع بن عامر سے پوچھا کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں داخل ہوئے؟ ربیع بن عامر نے بے خوفی کے ساتھ جواب دیا: اللهم ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلى عبادة الله تاریخ الامم والملوک جلد 2 صفحہ 401۔ یعنی اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ وہ جس کو چاہے، ہم اس کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ صحابیِ رسول کے اس قول کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ اللہ نے اپنے ایک منصوبے کے تحت ہم کو اٹھایا ہے۔

وہ منصوبہ یہ ہے کہ دنیا سے "الحمد لغير اللہ" کلچر کے غیر مطلوب دور کا خاتمہ ہو، اور دنیا میں "الحمدللہ" کلچر کا ربانی دور شروع ہو جائے۔ اصحابِ رسول کا یہ اقدام اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ زیادہ وسیع تر معنی میں تھا۔ اصحابِ رسول کا مشن یہ تھا کہ وہ دنیا میں ایک نئی تہذیب، یعنی civilization، کا غلبہ قائم کریں۔ یہ ایک دورِ تہذیب کی جگہ دوسرے دورِ تہذیب کو لانا تھا، نہ کہ محدود معنوں میں ایک حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری حکومت کو لانا۔

یعنی "الحمد لغير اللہ" پر مبنی تہذیب کی جگہ "الحمدللہ" پر مبنی تہذیب۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 100۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.