Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Alhamdulillah culture

Urdu · 3 min

الحمدللہ کلچر۔ قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: "الحمدللہ رب العالمین" سورہ نمبر 1، آیت 1۔ یہ آیت دنیا کی زندگی کے بارے میں رب العالمین کے مطلوب کو بتاتی ہے۔ ٹھیک یہی آیت قرآن میں آخرت کے حوالے سے آئی ہے: وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورہ نمبر 39، آیت 75۔

یہ دوسری آیت آخرت میں خدا کے مطلوب کو بتا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالقِ کائنات کو انسان کی زندگی میں ایک ہی کلچر مطلوب ہے، اور وہ الحمدللہ کلچر ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی الحمدللہ کلچر، اور قیامت کے بعد بننے والی اگلی دنیا میں بھی الحمدللہ کلچر۔ انسانوں کے درمیان اسی الحمدللہ کلچر کو فروغ دینے کے لیے خدا نے مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے۔

اس کے نتیجے میں کچھ افراد، یعنی انڈیویجولز، ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی ذاتی زندگی میں الحمدللہ کلچر کو اپنایا۔ لیکن عمومی حیثیت سے، پوری تاریخ میں الحمدللہ کلچر چھایا رہا۔ انسانی زندگی کا پورا نقشہ الحمدللہ کلچر کا عملی نمونہ بن کر رہ گیا۔ یہ معاملہ انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبے کے سراسر خلاف تھا۔

اس لیے خدا نے تاریخ میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ خدائی مداخلت، یعنی ڈیوائن انٹروینشن، کا یہ واقعہ 7ویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ظہور میں آیا۔ قرآن میں اصحاب رسول کے رول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ سورہ نمبر 8، آیت 39۔ یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے۔

اس آیت میں فتنے سے مراد شرک ہے، جیسا کہ مفسرینِ قرآن نے عام طور پر بیان کیا ہے۔ شرک کیا ہے؟ شرک دراصل الحمدللہ کلچر کا دوسرا نام ہے۔ انسان خالق کو دیکھ نہ سکا تو اس نے دکھائی دینے والی مخلوقات کی پرستش شروع کر دی۔

وہ خالق کے بجائے مخلوق کی عظمت، یعنی گلوری، میں جینے لگا۔ اسی کا نام شرک ہے، اور اسی کو ہم نے الحمدللہ کلچر کا نام دیا ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 100۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.