اصحاب رسول کا رول: اصحاب رسول کی تاریخ عملاً 4000 سال پہلے ہاجرہ ام اسماعیل سے شروع ہوتی ہے۔ ہاجرہ کی قربانی اس مشہور قول کی کامل مصداق ہے کہ ہر بڑے واقعے کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ There is a woman at the beginning of all great things. ہاجرہ کی قربانی سے وہ اعلیٰ نسل بنی جو تاریخ میں بنو اسماعیل، یعنی Ishmaelites، کے نام سے مشہور ہے۔
اسی نسل سے وہ استثنائی افراد نکلے جن کے مجموعے کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کا رول تاریخ میں کیا تھا، وہ ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر 2 ہجری کے موقع پر دعا کرتے ہوئے اپنے اصحاب کے بارے میں کہا تھا: اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض. صحیح مسلم، رقم الحدیث 1763۔
اس قول رسول میں العصابة سے مراد صحابہ کی جماعت ہے۔ صحابہ نے ہاجرہ کے بعد دوبارہ بے مثال قربانی کے ذریعے عہد ساز رول، یعنی epoc-making role، ادا کیا تھا۔ اصحاب رسول کے اس غیر معمولی رول سے انسانی تاریخ میں وہ انقلاب آیا جس کو فرانسیسی مؤرخ ہنری پریل، وفات 1935، نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: "اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا، تاریخ کے روایتی ڈھانچے کو اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ " Islam changed the face of the globe; the traditional order of history was overthrown.
صحابہ کی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں جو تبدیلی آئی، اس کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ: صحابہ نے تاریخ میں پہلی بار مخلوق کی پرستش، یعنی nature worship، کے دور کو ختم کیا اور خالق کی پرستش کے دور کا آغاز کیا۔ بعد کے زمانے میں انسانی تاریخ میں جو دور رس تبدیلیاں آئیں، وہ سب اسی انقلاب کا نتیجہ تھیں جو صحابہ کے ذریعے 7ویں صدی عیسوی میں برپا ہوا تھا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 99۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.