← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Tareekh-e-dawat-ek jayeza.
Urdu · 8 min
تاریخِ دعوت ایک جائزہ: قرآن خالقِ کائنات کی کتاب ہے۔ قرآن کا موضوع ہے انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ، یعنی Creation Plan of God، سے آگاہ کرنا۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت یہ ہے: «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهَا» سورہ نمبر 3، آیت 83۔ یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالانکہ اللہ ہی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے؟
انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اس دین اللہ کو اختیار کرے۔ اس معاملے میں انسان کے لیے دوسرا کوئی چائز نہیں۔ اس دین اللہ کے دو پہلو ہیں: توحید اور امن۔ توحید یعنی Oneness of God، اس دینِ کائنات کی نظریاتی بنیاد، یعنی ideological base ہے۔
دین کے تمام فکری اور عملی تقاضے اسی توحید کے نظریے سے پیدا ہوتے ہیں۔ توحید کا آغاز دریافت یعنی Discovery سے ہوتا ہے، یعنی خالقِ کائنات کی دریافت۔ یہ دریافت جب کسی کو حقیقی طور پر حاصل ہو جائے تو اس کے بعد اس کی پوری زندگی اس میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے تمام انبیاء اسی توحید کا پیغام لے کر آئے۔
امن یعنی peace کا لفظ دین اللہ کے اجتماعی تقاضے کو بتاتا ہے۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ انسانی سماج میں نارمل فطری حالت کو برقرار رکھا جائے۔ اسی فطری حالت کی برقراری پر زندگی کی تمام تعمیری سرگرمیوں کا انحصار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی اعتبار سے امن کی حیثیت خیرِ اعلیٰ، یعنی summum bonum کی ہے۔
امن دراصل سماج کی صحت مند حالت کا دوسرا نام ہے۔ امن کے بغیر کوئی بھی انسانی سرگرمی درست طور پر جاری نہیں رکھی جا سکتی، نہ دینی سرگرمی اور نہ دنیاوی سرگرمی۔ انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان جب آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے تو سماج میں معتدل ماحول بنتا ہے۔
ہر قسم کی صحت مند سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، انسان جب اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو سماج میں وہ ماحول بن جاتا ہے جس کو قرآن میں فساد، سورہ نمبر 7، آیت 85 کہا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی بھی کام کو خوشگوار طور پر انجام دینا ناممکن ہو جاتا ہے۔ قرآن کی سورہ النساء میں کہا گیا ہے: «الصلح خير» سورہ نمبر 4، آیت 128۔
یعنی صلح بہتر ہے۔ صلح سے مراد امن اور مسالمت، یعنی conciliation ہے۔ یعنی نزاع یعنی controversy کے وقت ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرنا۔ اس کے بجائے وہ طریقہ اختیار کرنا جس میں ٹکراؤ یعنی conflict کے بغیر نزاع ختم ہو جائے اور دوبارہ معتدل فضا میں کام ہونے لگے۔
زندگی میں نزاع کیوں پیدا ہوتی ہے؟ اس کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص آپ کا دشمن بن گیا ہے، وہ آپ کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ اس صورتحال کا اصل سبب خدا کا قائم کردہ تخلیقی نظام ہے۔ انسان کے پیدا کرنے والے نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔
ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنی آزادی کو استعمال کرے۔ اس صورتحال سے مسابقت یعنی competition اور challenge کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس challenge کو اگر منفی معنی ملے تو وہ نزاع ہے، اور اگر اس کو مثبت معنی ملے تو وہ ترقی کے لیے محرک یعنی incentive بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو وہ انسانی معاشرہ پسند ہے جس میں امن کا ماحول پایا جاتا ہو۔
امن خدا کے نقشۂ حیات کے مطابق ہے، اور تشدد خدا کے نقشۂ حیات کے خلاف ہے۔ قرآن کی سورہ یونس میں ارشاد ہوا ہے: «وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ» سورہ نمبر 10، آیت 25۔ یعنی اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے۔ And God calls to the home of peace.
قرآن کی اس آیت میں دارالسلام سے مراد اصلًا آخرت کی جنت ہے۔ جنت کامل معنوں میں امن کا مقام ہے۔ یہی پرامن زندگی موجودہ دنیا میں بھی انسان سے مطلوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ موجودہ دنیا میں پرامن زندگی کا ثبوت دیں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں کامل امن کی جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔
امن کا برعکس تشدد یعنی violence اور جنگ ہے۔ اہلِ علم امن کی تعریف یعنی definition اس طرح کرتے ہیں کہ امن نا جنگ حالت، یعنی absence of war کا نام ہے۔ لیکن یہ امن کی ایک منفی تعریف یعنی negative definition ہے۔ امن کی مثبت تعریف یہ ہے کہ امن مواقع کی موجودگی، یعنی presence of opportunity کا نام ہے۔
امن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مواقع کا دروازہ کھولتی ہے۔ امن کے ماحول میں ہر قسم کے مواقع قابلِ حصول ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے خالق کا منشا یہ ہے کہ امن کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ امن کو لازمی طور پر قائم رکھا جائے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت یعنی price دینی پڑے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 131۔