معرفتِ الٰہی: خدا کی معرفت، یعنی realization of God، ایک شعوری دریافت ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو اس طرح نہیں ہو سکتی کہ وہ اللہ اللہ کی لفظی تکرار کرے، یا مراقبہ کر کے وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ دل کی ہر دھڑکن میں اس کو اللہ اللہ کی آواز سنائی دینے لگے۔ اس قسم کی چیزیں ایک غیر متعلق ورزش کی حیثیت رکھتی ہیں؛ ان کا خدا کی معرفت سے کوئی تعلق نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ خلق اللہ آدم علی صورتہ صحیح البخاری، رقم الحدیث 6227۔
یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ اسی کو لے کر ایک عربی مقولہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: من عرف نفسه فقد عرف ربه یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ یہ بات بلاشبہ بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح ایک انا یعنی I ہے، اسی طرح خدا زیادہ بڑے پیمانے پر ایک انا ہے۔
یہ شعوری انا ساری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ واقعہ انسان کی اپنی حیثیت کو بتاتا ہے، اور اسی کے ساتھ وہ خدا کے وجود کو بھی ثابت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اگر اس کائنات میں انسان کی صورت میں ایک چھوٹا استثنا، یعنی small exception، موجود ہے تو یہ واقعہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک بڑا استثنا، یعنی big exception، بھی یقینی طور پر موجود ہے۔ انسان کا وجود لازمی طور پر خدا کے وجود کا ثبوت بن جاتا ہے۔
اسی بات کو حدیث میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا، یعنی جس طرح خدا ایک استثنائی وجود ہے، اسی طرح انسان بھی کائنات میں ایک استثنائی وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اگر اس استثنا کے ظاہرے پر غور کرے تو وہ یقینی طور پر خدا کو دریافت کر لے گا۔ وہ پکار اٹھے گا کہ میں ہوں، اس لیے یقینی طور پر خدا بھی ہے۔ I am therefore God is کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 57۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.