Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aala marifat.

Urdu · 3 min

اعلیٰ معرفت۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ "الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر" صحیح مسلم، رقم الحدیث 5256۔ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، اور غیر مومن کے لیے جنت۔ اس حدیث کو عام طور پر مادی معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی دنیا کی مادی چیزوں میں مومن کو سکون نہیں ملتا، جبکہ غیر مومن ان مادی چیزوں کو پا کر خوش ہو جاتا ہے۔

یا یہ کہ مومن کو شریعت کے نواہی، یعنی ممنوعات میں جینا پڑتا ہے، جبکہ غیر مومن اپنے آپ کو اس قسم کی شرعی پابندیوں سے آزاد سمجھتا ہے۔ لیکن اس حدیث کا ایک اور مطلب ہے، جو اعلیٰ معرفت سے تعلق رکھتا ہے: ایک مومن جب حقیقت کی دریافت کے اس ارتقائی مرحلے پر پہنچتا ہے جہاں اس کو اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، اس وقت دنیا اس کے لیے ایسی ہو جاتی ہے جیسے کہ وہ ایک نفسیاتی قید خانے میں ہے۔ جیسے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی، جہاں اس کی روحانی تسکین کا سامان موجود نہیں۔ ایسے مومن کو جب اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وجود اس کا متحمل نہیں، اس کے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعے وہ اپنی عارفانہ دریافت کو بیان کر سکے۔

اس کے پاس ایسے سامعین نہیں جو اس کی باتوں کو سمجھ سکتے ہوں، اس کے آس پاس وہ ماحول نہیں جہاں وہ اپنی معرفت کے ساتھ جی سکے۔ ایسا باشعور مومن ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے جیسے کہ وہ ایک قفس میں ہے، تمام چیزیں اس کو اپنی عارفانہ سطح کے اعتبار سے غیر موافق نظر آتی ہیں۔ یہی اعلیٰ کیفیت کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا سرٹیفکیٹ ہے۔ خدا جس انسان کو ایسی حالت میں پاتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کو جنت میں داخل کر دو، کیونکہ جنت کو میں نے ایسے ہی بندوں کے لیے بنایا ہے۔

جنت ایسے ہی بندوں کے لیے ہے، اور ایسے بندے صرف جنت کے لیے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 56۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.