عظمتِ خداوندی کی دریافت: مشہور امریکی باکسر محمد علی کلی، پیدائش 1942 کو، جب ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن کا خطاب ملا تو انہوں نے کہا کہ "میں دنیا کا بادشاہ ہوں" "I am the king of the world." یہی کم و بیش ہر عورت اور ہر مرد کا حال ہے۔ ہر آدمی صرف اپنی ذاتی بڑائی، یعنی self-glory، کو جانتا ہے۔ کسی نے خدا کی بڑائی کو دریافت نہیں کیا۔ انسان کا وجود ایک تخلیقی معجزہ ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو "ڈیوائن گلوری" کے طور پر دریافت کرے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے وجود میں صرف ذاتی عظمت، یعنی self-glory، کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے وجود میں خدا کی عظمت کو دریافت نہیں کر پاتا۔ یہ بلاشبہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
مشہور فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ، وفات 1650 نے، اپنے مشہور قول میں کہا تھا کہ "میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں" "I think, therefore I exist." یہ کسی انسان کے لیے خود اپنی دریافت کا معاملہ ہے۔ لیکن زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود میں خدا کے وجود کو دریافت کرے۔ وہ یہ کہہ سکے کہ "میں موجود ہوں، اس لیے خدا بھی یقیناً موجود ہے" "I am, therefore God exists. " یہی معرفت کا آغاز ہے۔
انسان سب سے پہلے اپنی موجودگی کی صورت میں خدا کی موجودگی کو دریافت کرتا ہے۔ اس دریافت کے بعد اس کے لیے دریافتوں کا لامتناہی دروازہ کھل جاتا ہے۔ ہر نئی دریافت اس کی معرفت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ اس طرح انسان کے عارفانہ شعور میں مسلسل ترقی ہوتی رہتی ہے۔
معرفت کا لامحدود خزانہ اس پر unfold ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان یقین اور معرفتِ خداوندی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 42۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.