معرفت کی قیمت: اعلیٰ معرفت بلاشبہ کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ یہ دراصل اعلیٰ معرفت ہے جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔ اعلیٰ معرفت کو حاصل کرنا اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ کسی اور چیز کو حاصل کرنا؛ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی اس کی قیمت ادا کرے۔ ضروری قیمت ادا کیے بغیر اس دنیا میں کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی، اور اسی طرح اعلیٰ معرفت بھی۔
اعلیٰ معرفت کے حصول کی قیمت کیا ہے؟ وہ صرف ایک ہے: معرفت کو اپنی زندگی میں اولین درجہ دینا، اور بقیہ تمام چیزوں کو ثانوی بنا دینا۔ جو عورت یا مرد یہ قیمت ادا کریں، وہ ضرور اعلیٰ معرفت کے درجے تک پہنچیں گے، اور جو لوگ یہ قیمت ادا نہ کریں، وہ کسی بھی حال میں اعلیٰ معرفت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے، خواہ کسی اور اعتبار سے انہوں نے کتنا ہی زیادہ عمل کیا ہو۔ اصل یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جبکہ آدمی اپنے آپ کو دو تقاضوں کے درمیان پاتا ہے: دین کا تقاضا اور دنیا کا تقاضا۔
ایسے موقع پر آدمی اگر یہ کرے کہ وہ دین کے تقاضے کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے دنیاوی تقاضے کی طرف جھک جائے، تو ایک بار ایسا کرنا بھی آدمی کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح شیطان کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ آدمی کے سفرِ معرفت کو روک کر اس کو پیچھے کی طرف دھکیل دے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں، جب کبھی انہیں کوئی شیطانی خیال چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں، اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔
سورہ نمبر 7، آیات 201 تا 202۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت کا سفر ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک دن کے لیے بھی اگر آدمی نے اپنے سفرِ معرفت کو روکا، تو وہ سالوں کے لیے پیچھے چلا جائے گا۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 41۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.