Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Marifat-e-deen,Ahkaam-e-deen.

Urdu · 3 min

معرفتِ دین، احکامِ دین۔ دینِ خداوندی کے دو حصے ہیں؛ اس کے ایک حصے کو معرفت کہہ سکتے ہیں، اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو احکام کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں یکساں طور پر ضروری ہیں، جس طرح ایک انسانی شخصیت کے لیے روح اور جسم دونوں یکساں طور پر ضروری ہوتے ہیں، لیکن معرفت اور احکام میں یہ فرق ہے کہ معرفت دین کا اصل حصہ، یعنی ریئل پارٹ ہے، اور اس کے مقابلے میں احکام کا حصہ دین کا اضافی حصہ، یعنی ریلیٹو پارٹ ہے۔ دین میں مذکورہ دو حصے کا ہونا نص کے ذریعے ثابت ہے؛ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں فرمایا: «لِكُلِّ آيَةٍ مِّنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ» صحیح ابن حبان، رقم الحدیث 75۔

یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک ظہر، یعنی آؤٹر پورشن ہے، اور دوسرا اس کا بطن، یعنی اِنر پورشن ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی آیات کا ایک پہلو سطور، یعنی لائنز میں ہے، اور اس کا دوسرا پہلو بین السطور، یعنی بٹوین دا لائنز میں ملتا ہے۔ اس حدیث کو لے کر کہا جا سکتا ہے کہ دین کی معرفت نام ہے داخلی معنویت کا، اور دین کے مسائل یا احکام سے مراد دین کا خارجی ڈھانچہ ہے۔ مثال کے طور پر ایمان کو لیجیے: فقہی اعتبار سے ایمان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زبان سے کہے کہ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» جس شخص نے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کر دیے، وہ فقہی مسئلے کے اعتبار سے مومن بن گیا۔

جہاں تک ایمان کی معرفت کی بات ہے، وہ اس قسم کے تلفظ سے الگ ایک چیز ہے؛ یہ عارفانہ ایمان کسی شخص کو ذہنی انقلاب، یعنی انٹلیکچول ریولوشن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ محض ادائیگیِ الفاظ کے ذریعے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.