Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Mana khez istesna.

Urdu · 4 min

مانخیز استثنا: کائنات میں بے شمار الگ الگ چیزیں پائی جاتی ہیں، لیکن کائنات کا ایک عجیب ظاہرہ یہ ہے کہ اس میں عمومی طور پر یکسانیت، یعنی یونیفارمٹی، نہیں ہے؛ بلکہ اس کے ہر حصے میں استثناءات، یعنی ایکسپشنز، پائے جاتے ہیں۔ کائنات کی یہ استثنائی مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ استثنا، یعنی ایکسپشن، ذہین مداخلت یعنی انٹیلیجنٹ انٹروینشن کا ثبوت ہے، اور ذہنی مداخلت ایک ذہین خالق یعنی انٹیلیجنٹ کریئیٹر کا ثبوت ہے۔ مثلاً وسیع کائنات میں شمسی نظام، یعنی سولار سسٹم، ایک استثنا ہے۔

شمسی نظام میں سیارۂ ارض، یعنی پلانٹ ارتھ، ایک استثنا ہے۔ زمین کا انتہائی متناسب سائز ایک استثنا ہے۔ زمین کی اپنے محور، یعنی ایکسس، پر گردش ایک استثنا ہے۔ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم ایک استثنا ہے۔

زمین پر زندگی ایک استثنا ہے۔ زمین پر انسان ایک استثنا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے مختلف استثنا، جو ہماری دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سادہ طور پر صرف استثنا نہیں ہیں، بلکہ وہ انتہائی حد تک بامعنی استثنا، یعنی meaningful exception ہیں۔ وسیع کائنات میں اس قسم کے بامعنی استثناءات یقینی طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے؛ اس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کائنات کو بنایا ہے۔

اس نے جہاں چاہا چیزوں میں یکسانیت، یعنی یونیفارمٹی، کا طریقہ اختیار کیا، اور جہاں چاہا کسی چیز کو دوسری چیزوں سے ممیز اور مستثنیٰ بنا دیا۔ مثلاً زندہ اجسام کے ڈھانچے میں باہم یکسانیت، یعنی یونیفارمٹی، پائی جاتی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ہر ایک کا جینیٹک کوڈ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں، لیکن ہر ایک کے انگوٹھے کا نشان، یعنی تھمب امپریشن، ایک دوسرے سے الگ ہے۔ یکسانیت کے درمیان یہ استثنا یقینی طور پر ایک ذہین تخلیق، یعنی انٹیلیجنٹ کریئیشن، کا ثبوت ہے، نہ کہ اندھے اتفاقات کا نتیجہ۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.