← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Khuda ki aala marifat.
Urdu · 8 min
خدا کی اعلیٰ معرفت یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ پوری تاریخ میں صرف چند مخلص، یعنی چوزن، انسانوں کے سوا کوئی بھی شخص اللہ کی عظمت کو دریافت نہ کر سکا۔ چنانچہ پوری انسانی تاریخ میں جو چیز سب سے کم پائی جاتی ہے، وہ خدا کی اعلیٰ معرفت ہے۔ اعلیٰ معرفت، اعلیٰ عظمت سے جڑی ہوئی ہے۔ جب انسان خدا کی اعلیٰ عظمت کو دریافت نہ کر سکا، تو اس کے بعد لازماً یہی ہونا تھا کہ وہ خدا کی اعلیٰ معرفت سے بھی محروم رہے۔
انسان اپنی داخلی فطرت کے اعتبار سے ایسا خدا چاہتا ہے جو غیر مشترک طور پر اعظم و برتر خدا کی حیثیت رکھتا ہو۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے لامحدود عظمتوں والا خدا چاہتا ہے۔ چونکہ انسان پچھلی تاریخ میں ایسے لامحدود خدا کو دریافت نہ کر سکا، اس لیے خدا سے اس کا برتر تعلق بھی قائم نہیں ہوا۔ انسان خدا کو رسمی عقیدے کے طور پر تو مانتا رہا، لیکن اس کو وہ خدا نہیں ملا جو اس کا سب کچھ بن جائے، جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرے، اور جس کے بارے میں اس کے اندر سب سے زیادہ خشیت کا جذبہ پایا جاتا ہو۔
ایسا کیوں ہوا؟ ایسا اس لیے ہوا کہ قدیم زمانے میں انسان دیکھتا تھا کہ یہاں بہت سی چیزیں ہیں جن کو بظاہر بڑائی کا درجہ ملا ہوا ہے، مثلاً سورج، چاند، سمندر اور پہاڑ وغیرہ۔ اس طرح قدیم زمانے میں بہت سے بڑے بڑے بادشاہ تھے جو اپنے بارے میں "انا ربکم الاعلی" کا دعویٰ کرتے تھے۔ اسی طرح لوگوں کے اپنے زندہ اور مردہ اعظم تھے جو بظاہر دیکھنے میں بڑے نظر آتے تھے۔
ان سب کو انسان نے بڑا درجہ دے دیا۔ قدیم زمانے میں اس طرح کی بہت سی چیزیں تھیں جو بظاہر انسان کو بڑی دکھائی دیتی تھیں، پر فریب بڑائی، یعنی deceptive greatness کا یہی وہ واقعہ ہے جس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا سورہ نمبر 14 آیت 36۔ قدیم زمانے میں اس قسم کی مختلف بڑائیاں انسان کے ذہن پر چھائی رہتی تھیں۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ خدا پر عقیدہ رکھنے کے باوجود انسان خدا کو اعلیٰ ترین اور عظیم ترین ہستی کی حیثیت سے دریافت نہ کر سکا۔
انسان نے خدا کو رسمی طور پر مانا، لیکن وہ خدا کی اعلیٰ معرفت سے محروم رہا۔ اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کو ماننے والے خدا کو اپنا سول کنسنٹ نہیں بنا پاتے۔ خدا کی ذات کے ساتھ ان کو وہ برتر تعلق قائم نہیں ہوتا جس کو ایموشنل اٹیچمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مسلم تاریخ کا کوئی استثنا نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں کے درمیان بے شمار کتابیں لکھی گئیں، لیکن میرے علم کے مطابق اللہ کی برتر عظمت اور اللہ کی اعلیٰ معرفت کے موضوع پر غالباً کوئی قابل ذکر کتاب نہ لکھی جا سکی۔ اس تاریخ کو پہلی بار جدید سائنس نے ختم کیا ہے۔ جدید سائنس نے پہلی بار یہ کام کیا کہ اس نے تمام انسانی اور غیر انسانی بڑائیوں کو تحلیل، یعنی dilute کر دیا۔ اب کوئی بڑائی بڑائی نہیں رہی۔
اس طرح جدید سائنس نے معرفت کا ابتدائی نصف سفر طے کر دیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ انسان اپنے غور و تدبر کے ذریعے معرفت کا بقیہ نصف سفر طے کرے اور اللہ کی معرفت کو اعلیٰ ترین درجے میں حاصل کر سکے۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو ہے، یہ وحدت وجود یعنی مونزم کا پہلو ہے۔ پچھلے ہزاروں سال کا تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ خدا پر عقیدہ رکھنے والے لوگوں نے بھی زیادہ تر خدا کو وحدت وجود کے مفہوم میں مانا، نہ کہ توحید یعنی مونوتھزم کے مفہوم میں۔
وحدت وجود کیا ہے؟ وحدت وجود دراصل معلوم کائنات کے فریم ورک میں خدا کے وجود کو ماننا ہے۔ یہی قدیم زمانے میں تمام قائلینِ خدا کا مسلک تھا۔ جو لوگ شرک کے معنی میں خدا کو مانتے تھے، وہ بھی، اور جو لوگ وحدت وجود کے معنی میں خدا کو مانتے تھے، وہ بھی، خدا کو مشاہداتی فریم ورک کی نسبت سے مانتے تھے۔
وہ صرف اس خدا کا تصور کر پاتے تھے جو عالم موجودات میں شامل ہو، نہ کہ اس کے باہر۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ مشرکین نے خود دکھائی دینے والی چیزوں ہی کو خدا مان لیا، اور وحدت وجود کے قائلین نے دکھائی دینے والی چیزوں کو خدا کا ظہور سمجھ لیا۔ جدید سائنس نے پہلی بار ایک ایسا فریم ورک دیا ہے جبکہ خدا کا تصور موجودات کے دائرے سے باہر کیا جا سکے۔ پچھلے زمانوں میں مختلف صورتوں میں خود مخلوق کو خدا مان لیا جاتا تھا۔
اب دورِ سائنس میں یہ ممکن ہوا ہے کہ مخلوقات یا موجودات کے باہر خدا کا تصور کیا جا سکے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔