ذہنی ارتقاء، ذہنی ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈیولپمنٹ، بلاشبہ کسی انسان کی سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے۔ ذہنی ارتقاء ہی کے ذریعے ایک انسان کامل انسان بنتا ہے۔ ذہنی ارتقاء ہی کے ذریعے ایک شخص اپنی بالقوہ، یعنی پوٹینشل صلاحیتوں کو بالفعل، یعنی ایکچول، بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ذہنی ارتقاء ہی کے ذریعے آدمی حیوانیت کے درجے سے بلند ہو کر انسانیت کے درجے تک پہنچتا ہے۔
ذہنی ارتقاء ہی کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کا مطلوب بندہ بن سکے۔ ذہنی ارتقاء کوئی نئی چیز نہیں، یہ عین وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں ازدیادِ ایمان، سورہ نمبر 48 آیت 4 کا لفظ آیا ہے۔ ایمان کا آغاز حقیقت کی دریافت سے ہوتا ہے۔ حقیقت کوئی محدود چیز نہیں، وہ لامحدود حد تک وسیع ہے۔
ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے حقیقت کی کائناتی وسعتوں میں اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ یہ سفر نئی نئی دریافتوں کے ساتھ مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس سفر کا آغاز ہے، لیکن اس سفر کا کوئی خاتمہ نہیں۔ گویا کہ یہ ایک پروسیس ہے۔
ازدیادِ ایمان اور ذہنی ارتقاء، دونوں اسی پروسیس کے دو نام ہیں۔ یہ دونوں نام الفاظ کے اعتبار سے الگ ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ ایمان، ازدیاد کے بغیر ایک جامد ایمان ہے، لیکن ازدیاد کے ساتھ ایمان لامتناہی معنوں میں ایک زندہ چیز بن جاتا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے بعد فوراً ہی اس کا جسمانی ارتقاء، یعنی فزیکل ڈیولپمنٹ، شروع ہو جاتا ہے۔
یہ ارتقائی عمل ایک بچے کو بڑا انسان بنا دیتا ہے۔ یہی معاملہ ذہنی ارتقاء کا ہے۔ ذہنی ارتقاء بھی پیدائش کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے، مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ جسمانی ارتقاء کی ایک معلوم حد ہے، لیکن ذہنی ارتقاء کی کوئی معلوم حد نہیں۔
حقیقت کی حد کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح ذہنی ارتقاء کی حد بھی کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 34۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.